حدیث

یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: يا رسولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فإلى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قال: «إلى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو“۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے دو پڑوسی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ پڑوسی کا اکرام کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو تاہم میں ان دونوں کو ایک ساتھ ہدیہ نہیں دے سکتی۔ اب میں ان دونوں میں سے کسے ہدیہ بھیجوں تاکہ میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوجائے جو پڑوسی کا اکرام کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے جس کا دروازہ زیادہ قریب ہے اسے ہدیہ بھیجو“۔

تشریح: العربية

سألت عائشة رضي الله عنها النبي صلى الله عليه وسلم : إن لي جارين وقد أمرت بإكرام الجار مطلقًا؛ ولا أقدر على الإهداء إليهما معًا، فإلى أيهما أهدي ليحصل لي الدخول في جملة القائمين بإكرام الجار؟ فقال صلى الله عليه وسلم : "إلى أقربهما منك بابًا".

  • استحباب تقديم الجار الأقرب فالأقرب إذا لم يقدر على الإحسان إلى الجميع.
  • ينبغي مراعاة شعور الجار الأقرب؛ لأنه يرى ما يدخل بيت جاره من هدية وغيرها بخلاف الأبعد، وكذلك هو الأسرع إجابة لما يقع لجاره.
  • القرب المعتبر هو قرب الأبواب.
  • يؤخذ من الحديث تقديم العلم على العمل، ولذلك سألت عائشة -رضي الله عنها- عن حكم المسألة قبل المباشرة في الفعل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید