ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ، وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ».
ترجمہ
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بائيں ہاتھ میں ریشم اور دائيں ہاتھ میں سونا لیا، انھیں لے کو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا : "یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔"
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بائيں ہاتھ میں ریشم یا ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا اور دائيں ہاتھ میں سونا کا زیور وغیرہ لیا اور فرمایا : بلاشبہ ریشم اور سونا پہننا مردوں پر حرام ہے۔ البتہ عورتوں کے لیے حلال ہے۔
فوائد
- سندھی کہتے ہیں: (حرام ہے) کا مطلب یہ ہے کہ پہننے کے طور پر ان دونوں چيزوں کا استعمال کیا جائے۔ ورنہ ان کا لین دین کرنا، خرچ کرنا اور خریدنا اور بیچنا مرد اور عورت دونوں کے لیے حلال ہے۔ سونے کا برتن بناکر رکھنا اور اس کا استعمال کرنا مرد اور عورت دونوں کے لیے حرام ہے۔
- اسلامی شریعت نے عورتوں کے حق میں وسعت رکھی ہے کہ ان کو زینت وغیرہ کی حاجت رہتی ہے۔
تشریح: العربية
أَخَذَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم ثوبًا من حَرِيْر أو قطعةً منه، بيده اليسرى، وأخذ ذهبًا مِن حُلِيٍّ أو ما شابه، بيده اليمنى، ثم قال: إنّ الحرير والذهب، حرامٌ لبسهما على الرجال، أما النساء فهما حلال لهن.
- قال السندي: (حرام): المراد استعمالُها لبسًا؛ وإلا فالاستعمال صَرْفًا وإنفاقًا وبيعًا جائزٌ للكُلّ، واستعمال الذهب باتخاذ الأواني منه واستعمالُها حرام للكل.
- توسعة الشريعة الإسلامية على النساء للحاجة إلى الزينة ونحوها.