حدیث

رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔ میں اٹھی اور میں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أم ثابتٍ كَبْشَةَ بنتِ ثابتٍ أُخْتِ حَسَّانَ بنِ ثابتٍ رضي الله عنهما ، قالت: دَخَلَ عَلَيَّ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قائمًا، فقُمتُ إلى فِيها فَقَطَعْتُهُ.

ترجمہ

ام ثابت کبشہ بنت ثابت جو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کی بہن ہیں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔ میں اٹھی اور میں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔

تشریح

کبشہ بنت ثابت رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور کھڑے کھڑے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے پانی پیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اس وقت پانی صرف اسی طرح ہی پینا ممکن تھا۔ میں نے کھڑے ہو کر مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ جس حصے کو آپ ﷺ کے دہن مبارک نے مسّ کیا تھا اسے محفوظ کر لیں اور اس سے برکت حاصل کریں اور اسے بے توقیری سے بچائیں۔

تشریح: العربية

قالت كبشة بنت ثابت رضي الله عنها: دخل عليَّ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فشرب من فم قربة معلقة قائما، وقد فعل ذلك صلى الله عليه وسلم لعدم إمكان الشرب حينئذ إلا كذلك، قالت: فقمت إلى فيها فقطعته؛ لتحفظ موضع فم رسول الله صلى الله عليه وسلم وتتبرك به، وتصونه عن الامتهان.

  • الشرب من فم القربة أو السقاء جائز مع الكراهة، وسبب الكراهة ورود أحاديث أخرى نهت عنه، وعلمنا أن النهي للكراهة لا للتحريم بهذا الحديث وما في معناه.
  • حرص الصحابة على الاحتفاظ بآثار رسول الله صلى الله عليه وسلم ليتبركوا بها، وهذا من خصائصه صلى الله عليه وسلم، فلم يكونوا يتبركون بآثار أبي بكر وعمر رضي الله عنهما، وهما سادة الأولياء والصالحين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید