ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْت، وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ».
ترجمہ
ابو ذر جندب بن جنادۃ اور ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) اس گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو، یہ گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔"
تشریح
اس حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ تین باتوں کا حکم دے رہے ہيں: پہلی بات : تقوی اختیار کیا جائے۔ تقوی اختیار کرنے کا مطلب ہے، واجبات ادا کرنا اور حرام چیزوں کو ترک کرنا۔ خواہ زمان ومکان اور حالات جو بھی ہوں، سری طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی، امن و سکون کے وقت بھی اور آزمائش کی گھڑی میں بھی۔ دوسری بات : اگر کوئی برا کام ہو جائے، تو اس کے بعد کوئی اچھا کام کرو، جیسے نماز پڑھنا، صدقہ کرنا، بھلائی کرنا، صلہ رحمی کرنا اور توبہ کرنا وغیرہ۔ یہ چیزیں برائی اور گناہ کو ختم کر دیتی ہيں۔ تیسری بات : لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ جیسے مسکرا کر ملنا، نرم برتاؤ کرنا، بھلائی کرنا اور تکلیف نہ دینا وغیرہ۔
فوائد
- بندوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ رحیم وکریم ہے اور عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔
- اس حدیث میں تین حقوق بیان ہوئے ہيں: اللہ کا حق جو کہ تقوی اختیار کرنا ہے، نفس کا حق جو کہ برا کام ہو جانے کے بعد اچھا کام کرنا ہے اور لوگوں کا حق جو کہ ان کے ساتھ اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کرنا ہے۔
- اس حدیث میں برے کاموں کے بعد اچھے کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ویسے، اچھے اخلاق کا مظاہرہ بھی تقوی کے زمرے میں داخل ہے، لیکن اس کا الگ سے ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت تھی۔
تشریح: العربية
يأمر النبي صلى الله عليه وسلم بثلاثة أمور: الأول: تقوى الله وذلك بفعل الواجبات، وترك المحرمات، في كل مكان وزمان وحال، في السر والعلانية، وفي العافية والبلاء وغير ذلك. الثاني: إذا وقعت في سيئة، فافعل بعدها حسنة من صلاة وصدقة وبر وصلة وتوبة وغير ذلك، فإن ذلك يمحو السيئة. الثالث: عامل الناس بأخلاق حسنة، مِنْ تبسم في وجوههم، ورفق ولين وبذل معروف وكف أذى.
- فضل الله عزّ وجل على العباد في رحمته ومغفرته وعفوه.
- اشتمل الحديث على الحقوق الثالثة: حق الله بالتقوى، وحق النفس بفعل الحسنات بعد السيئات، وحق الناس بالمعاملة بالأخلاق الحسنة.
- الترغيب في فعل الحسنات بعد السيئات، وحسن الخلق من خصال التقوى، وإنما أفرد بالذكر للحاجة إلى بيانها.