حدیث

آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كنَّا مع النبي صلى الله عليه وسلم في السفر فمنَّا الصائم، وَمِنَّا المُفطر، قال: فنزلنا مَنْزِلًا فِي يوم حارٍّ، وأكثرنا ظِلًّا صاحب الْكِسَاءِ، وَمِنَّا من يَتَّقِي الشمس بيده، قال: فَسقط الصُّوَّامُ، وقام المُفْطِرُونَ فَضربوا الْأَبْنِيَةِ، وَسَقَوْا الرِّكَاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ذهب المُفْطِرُونَ اليوم بالأجر".

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ روزے سے نہیں تھے۔ ہم نے ایک گرم دن میں ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اسے میسر تھا جو چادر والا تھا۔ کچھ لوگ ہم میں سے ایسے بھی تھے جو اپنے ہاتھ سے سورج کی تپش سے بچ رہے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ قائم رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے“۔

تشریح

صحابہ کرام ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ممکن ہے کہ یہ غزوہ فتح مکہ کا ہو، ان میں سے بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا اور بعض روزہ دار تھے۔ نبی ﷺ نے ہر ایک کو اس کی حالت پر رہنے دیا۔ سخت گرمی کے دن میں انہوں نے ایک جگہ سفر کی مشقت اور دوپہر کی گرمی سے کچھ راحت پانے کے لئے پڑاؤ کیا۔ جب انہوں نے اس گرمی میں پڑاؤ کیا تو روزہ دار لوگ گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور کوئی کام نہ کر سکے،جب کہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے اٹھ کر خیمے نصب کر کے پڑاؤ کی جگہیں بنائیں،اونٹوں کو پانی پلایا اور اپنے روزہ دار بھائیوں کی خدمت کی۔ نبی ﷺ نے جب ان کے اس عمل کو اور جس طرح سے انہوں ںے اہل لشکر کی خدمت کی تھی اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی فضیلت اور اجر میں زیادتی کو بیان کیا اور فرمایا: ”آج تو جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اجر و ثواب لے گئے“۔

تشریح: العربية

كان الصحابة مع النبي صلى الله عليه وسلم في أحد أسفاره، ويحتمل أنها غزوة الفتح، فكان بعضهم مفطرًا، وبعضهم صائمًا، والنبي صلى الله عليه وسلم يُقر كلًّا منهم على حاله. فنزلوا في يوم حار ليستريحوا من عناء السفر وحر الهاجرة، فلما نزلوا في هذه الهاجرة، سقط الصائمون من الحر والظمأ، فلم يستطيعوا العمل، وقام المفطرون، فضربوا الأبنية، بنصب الخيام والأخبية، وسقوا الإبل، وخدموا إخوانهم الصائمين، فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم فعلهم وما قاموا به من خدمة الجيش شجعهم، وبين فضلهم وزيادة أجرهم وقال: "ذهب المفطرون اليوم بالأجر".

  • جواز الإفطار والصيام في السفر؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أقر كلًّا على ما هو عليه.
  • ما كان عليه الصحابة -رضي الله عنهم- من رقة الحال في الدنيا، ومع ذلك لم تمنعهم رقة الحال من ارتكاب الصعاب في الجهاد في سبيل الله -تعالى-.
  • فضل خدمة الإخوان والأهل، وأنها من الدين ومن الرجولة التي سبقنا فيها صفوة هذه الأمة، خلافًا لفعل كثير من المترفعين المتكبرين.
  • أن الفطر في السفر أفضل لا سيما إذا اقترن بذلك مصلحة من التقوي على الأعداء ونحوه، فإن فائدة الصوم تلزم صاحبها، أما فائدة الإفطار في مثل ذلك اليوم فإنها تتعدى المفطر إلى غيره.
  • حث الإسلام على العمل وترك الكسل، فقد جعل للعامل نصيبًا كبيرًا من الأجر، وفضله على المنقطع للعبادة، وأين هذه من الناعقين الذين يرونه دِينا عائقا عن العمل والتقدم والرقي؟
  • أن التوقي من أسباب الضرر لا ينافي كمال التوكل على الله -تعالى-.
  • أن الثواب على الأعمال بحسب مصالحها.
  • مشروعية التشجيع على العمل الصالح والترغيب فيه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید