حدیث

اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت ملی تھی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب جو ہاں حاضر ہے اسےچاہئے کہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي شُريح -خُوَيْلِدِ بن عمرو الخُزَاعي العدوي رضي الله عنه-: أنه قال لعمرو بن سعيد بن العاص -وهو يبعث الْبُعُوثَ إلى مكة- ائْذَنْ لي أيها الأمير أن أُحَدِّثَكَ قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح؛ فسمعَتْه أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قلبي، وأبصرته عيناي حين تكلم به أنه حمد الله وأثنى عليه، ثم قال: «إن مكة حَرَّمَهَا الله تعالى، ولم يُحَرِّمْهَا الناس، فلا يحل لِامْرِئٍ يؤمن بالله واليوم الآخر: أن يسفك بها دمًا، ولا يعضد بها شجرة، فإن أحد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقولوا: إنَّ الله أذِن لرسوله ولم يأذن لكم. وإنما أذِنَ لي ساعة من نهار، وقد عادت حُرْمَتُهَا اليوم كَحُرمتها بالأمْسِ، فَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الغائب». فقيل لأبي شريح: ما قال لك؟ قال: أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح، إن الحرم لَا يُعِيذُ عاصيا، وَلَا فَارًّا بدمٍ، ولَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.

ترجمہ

ابوشریح خویلد بن عمرو الخزاعی العدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید بن العاص سے، جب کہ وہ مکہ میں فوجیں بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے وہ بات بیان کروں جس کو رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے اگلے دن (ایک خطبہ کے دوران) ارشاد فرمایا تھا، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ بات فرماتے دیکھا ہے! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرم (حرمت والا شہر) بنایا ہے لوگوں نے اسے حرم نہیں ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس بنا پر رخصت اختیار کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں قتال کیا تو اس سے کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی ہے۔ اور مجھے بھی صرٖف دن کی ایک ساعت کے لیے اجازت ملی تھی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح پلٹ آئی جس طرح کل اس کی حرمت تھی۔ اب جو ہاں حاضر ہے اسےچاہئے کہ غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ ابوشریح سے پوچھا گیا: عمرو بن سعید نے (یہ حدیث سن کر) آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتایا کہ عمرو نے کہا: اے ابو شریح! میں یہ حدیث تم سے زیادہ جانتا ہوں مگر حرم کسی نافرمان کو، یا خون کر کے بھاگے ہوئے یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔

تشریح

عمرو بن سعید بن العاص جو کہ اشدق کے نام سے مشہور تھا، اس وقت یزید بن معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا امیر (گورنر) مقرر تھا۔ اس نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کا ارادہ کیا، تو ابو شُریح خویلد بن عمرو الخزاعی اسے اس بابت نصیحت کرنے آئے۔ چونکہ جسے نصیحت کی جارہی تھی وہ ان کے دل میں گراں قدر تھا، اس لئے ابو شریح نے حکمت اور دانائی کے پیشِ نظر اس کے ساتھ بات کرنے میں نرمی برتی۔ تاکہ نصیحت قبول کر لی جائے اور اس کا ردِّ عمل بُرا نہ ہو۔ اس لیے ابو شُریح نے اس سے اس لشکر کشی کے بارے میں نصیحت کرنے کی اجازت چاہی جس کے لیے وہ کوشاں تھا، اور اسے بتلایا کہ وہ اس کے سامنے جو حدیث پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے اور انہیں اس کی سچائی پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے کہ اسے ان کے کانوں نے سنا ہے، ان کے دل نے یاد رکھا ہے اور ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت اللہ کے رسول ﷺ یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ تو عمرو بن سعید نے انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔ ابو شُریح نے کہا کہ فتح مکہ کی صبح آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: مکہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے دن ہی حرام (حرمت والا) بنایا ہے۔ اس لئے اس کی تعظیم و تقدیس بہت قدیم ہے، اسے لوگوں نے حرام نہیں کیاہے جیسے وہ عارضی محفوظ علاقے، چراگاہ اور پنگھٹ کو حرام (ممنوع) قرار دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تحریم کا ذمہ لیا ہے، تاکہ اس کی عظمت زیادہ ہو۔ لہٰذا جب اس کی حرمت قدیم اور اللہ کی طرف سے ہے، تو پھر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے، اگر اسے اپنے ایمان کی حفاظت کا خیال ہے، جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے یا اس میں کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص فتح مکہ کے دن میرے قتال کی وجہ سے رخصت اختیار کرے تو اس سے کہو: تم اللہ کے رسول ﷺ کی طرح نہیں ہو۔ کیونکہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت دی گئی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ (آپ ﷺ ) کے لیے بھی اس میں قتال کرنا ہمیشہ کے لئے حلال نہیں کیا گیا، بلکہ بقدر ضرورت صرف دن کی ایک گھڑی میں آپ کو اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت پہلے ہی کی طرح پلٹ آئی۔ لہٰذا حاضر کو چاہیئے کہ وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ لہٰذا اے امیر! میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچادیا، کیونکہ فتح مکہ کی صبح اس حدیث کے بیان کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ لوگوں نے ابوشُریح سے کہا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اس طرح جواب دیا: اے ابو شُریح! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ اس نے حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کے لئے لشکر کشی سے باز نہ آٰیا، بلکہ اسے جاری رکھا۔

تشریح: العربية

لما أراد عمرو بن سعيد بن العاص، المعروف بالأَشْدَق، أن يجهز جيشًا إلى مكة المكرمة وهو يومئذ أمير ليزيد بن معاوية على المدينة المنورة، لقتال عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما، جاءه أبو شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بن عمرو الخُزَاعي رضي الله عنه ، لينصحه في ذلك. ولكون المنصوح كبيرًا في نفسه، تلطَّف أبو شُريح معه في الخطاب، حكمة منه ورشدًا، ليكون أدعى إلى قبول النصيحة وسلامة العاقبة، فاستأذنه ليلقي إليه نصيحة في شأن بعثه الذي هو ساعٍ فيه، وأخبره أنه متأكد من صحة هذا الحديث الذي سيلقيه عليه، وواثق من صدقه إذ قد سمعته أذناه ووعاه قلبه، وأبصرته عيناه حين تكلم به النبي صلى الله عليه وسلم، فأذن له عمرو بن سعيد في الكلام. فقال أبو شريح: إن النبي صلى الله عليه وسلم صبيحة فتح مكة حمد الله وأثنى عليه ثم قال: "إن مكة حرمها الله يوم خلق السماوات والأرض" فهي عريقة بالتعظيم والتقديس، ولم يحرمها الناس كتحريم الحمى المؤقت والمراعي والمياه، وإنما الله الذي تولَّى تحريمها، ليكون أعظم وأبلغ. فإذا كان تحريمها قديمًا ومن الله فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر - إن كان يحافظ على إيمانه - أن يسفك بها دماً، ولا يعضدها بها شجرة. فإن أحد ترخص بقتالي يوم الفتح، فقولوا: إنك لست كهيئة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد أُذِنَ له ولم يُؤذن لك. على أنه لم يحل القتال بها دائمًا، وإنما هي ساعة من نهار، بقدر تلك الحاجة، وقد عادت حرمتها كما كانت، فليبلغ الشاهد الغائب. لهذا بلغتك أيها الأمير، لكوني شاهدًا هذا الكلام، صبيحة الفتح، وأنت لم تشهده. فقال الناس لأبي شريح: بماذا أجابك عمرو ؟ فقال: أجابني بقوله : "أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح، إن الحرم لا يُعِيذُ عاصياً ولا فارًّا بِخَرْبَةٍ" فعارض الحديث برأيه، ولم يمتنع عن إرسال البعوث لقتال ابن الزبير، بل استمر على ذلك.

  • إفادة العلم وقت الحاجة إليه؛ لأنه أبلغ.
  • نصح ولاة الأمور، وأن يكون ذلك بلطف ولين، لأنه أنجح في المقصود.
  • قوة أبي شريح رضي الله تعالى عنه في بيان الحق.
  • إقرار الصحابة إمارة الأمراء ولو كانوا فساقًا.
  • توكيد الخبر بما يثبته ويؤيده، من بيان الطرق الوثيقة، التي وصل منها؛ مثل كونه سمعه بنفسه، أو تكرر عليه. أو شاهد الحادث، أو نقله عن ثقة، ونحو ذلك.
  • مشروعية الخطبة عند الحاجة إليها لموعظة أو بيان حكم.
  • البداءة بالحمد والثناء على الله تعالى، في الخطب والمخاطبات، والرسائل وغيرها، من الكلام المهم.
  • تعظيم حرمة مكة، بكون تحريمها من الله تعالى لا من الناس، وأما تحريم إبراهيم -عليه السلام- لمكة فهو إظهار لتحريم الله.
  • أن التزام أحكام الله تعالى من لوازم الإيمان بالله واليوم الآخر.
  • أن الإيمان الصحيح هو الرادع عن محارم الله وتعدِّي حدوده.
  • تحريم القتل والقتال في مكة
  • تحريم قطع الأشجار في مكة والمراد به جميع الحرم.
  • إباحة القتال للنبي صلى الله عليه وسلم ساعة، لم تبح قبلها، ولن تباح بعدها.
  • ثبوت تخصيص النبي صلى الله عليه وسلم ببعض الأحكام.
  • لا يحل لأحد أن يترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيقاتل في مكة.
  • أن النبي فتح مكة عَنْوَةً لقوله: "فإن أحد ترخص بقتال رسول الله".
  • أن أفعال النبي صلى الله عليه وسلم يقتدى به فيها، إلا أن يدل الدليل على التخصيص.
  • وجوب تبليغ العلم لمن يعلمه، لاسيما عند الحاجة إليه. وهذا ما حمل أبا شريح على نصيحة عمرو بن سعيد.
  • وقوع النسخ في الأحكام الشرعية حسبما تقتضيه حكمة الله تعالى.
  • جواز النسخ مرتين في فعل واحد؛ لأن القتال بمكة كان حراما، ثم أحل للنبي صلى الله عليه وسلم ساعة الفتح ، ثم حُرم.
  • قبول خبر الواحد في الأمور الدينية.
  • بلاغة النبي صلى الله عليه وسلم وقوة كلامه وتأثيره في النفس.
  • رفض معارضة الدليل الشرعي بالرأي.
  • عدم الرد على الخصم إذلالًا له إذا تبين عناده.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید