حدیث

’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، فَقَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ البِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»، وَفِي لَفْظٍ لِمُسلِمٍ: «عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ».

ترجمہ

جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘

تشریح

رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور دھوپ کی شدت اور پیاس کی کثرت کی وجہ سے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ روزہ دار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔

فوائد

  • شریعتِ اسلامیہ کی آسانی کا بیان۔
  • سفر کے دوران روزہ رکھنے کا جواز، اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت پر عمل کرنے کا جواز۔
  • سفر میں اگر مشقت ہو تو روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر یہ ہلاکت کی حد تک پہنچ جائے تو حرام ہے۔
  • نووی کہتے ہيں: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں اس سے مشقت ہو اور ضرر کا اندیشہ ہو، حدیث کا سیاق اسی تاویل کا تقاضا کرتا ہے۔
  • نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری کرتے تھے۔
تشریح: العربية

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فرأى رجلًا اجتمع الناس عليه وقد ظُلِّل عليه من حرارة الشمس وكثرة العطش، فقال: ما له؟ فقالوا: صائم، فقال: ليس من البر الصوم في السفر، عليكم برخصة الله الذي رخص لكم.

  • بيان يُسْر شريعة الإسلام.
  • جواز الصيام في السفر، وجواز الأخذ بِالرُّخْصَةِ بالفطر.
  • يكره الصوم في السفر إذا شق عليه، ما لم يصل به إلى حدِّ الهَلكة فيَحْرُم.
  • قال النووي: ليس من البر أن تصوموا في السفر: معناه: إذا شق عليكم وخفتم الضرر، وسياق الحديث يقتضي هذا التأويل.
  • اعتناء النبي صلى الله عليه وسلم بأصحابه وسؤاله عن أحوالهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید