ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قال: «خَرَجْنَا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان، في حَرٍّ شَدِيدٍ ، حتى إن كان أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ على رأسهِ من شِدَّةِ الْحَرِّ. وما فِينَا صائمٌ إلا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم وعبد ُالله بن رَوَاحَةَ».
ترجمہ
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔
تشریح
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمارہے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، یہ سخت گرمی کا زمانہ تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تاکہ ہاتھ کے ذریعہ سر، گرمی کی شدت سے بچ جائے۔ ان میں صرف اللہ کے رسولﷺ اور عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ انھوں نے گرمی کو برداشت کرکے روزہ رکھ لیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں اگر مشقت اس حد تک نہ ہو کہ بندہ اس سے ہلاک ہو جائے تو روزہ رکھنا جائز ہے۔
تشریح: العربية
يخبر أبو الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه أنهم خرجوا في سفر في شهر رمضان، وكان ذلك في حرٍ شديد، حتى إنه من شدة الحر ليَضع الرجل يده على رأسه ليقي رأسه بيده من شدة الحر ، وما فيهم صائم إلا النبي صلى الله عليه وسلم ، وعبد الله بن رَوَاحَةَ الأنصاري رضي الله عنه ، فقد تحملا الشدة وصاما، مما يدل على جواز الصيام في السفر مع المشقة التي لا تصل إلى حد التَّهْلُكَةِ.
- جواز فطر المسافر في رمضان.
- أن الفطر أفضل مع المشقة المحتملة.
- إذا جاز الفطر في رمضان لأجل المشقة الشديدة في السفر جاز في غير رمضان، كصيام النذر، فله الفطر.
- أن التوقي من أسباب الضرر لا ينافي كمال التوكل على الله -تعالى-.