حدیث

”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو۔ مگر جو شخص (پہلے سے) روزے رکھ رہا ہو وہ رکھ سکتا ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو۔ مگر جو شخص (پہلے سے) روزے رکھ رہا ہو وہ رکھ سکتا ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے سے بطور احتیاط روزہ شروع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے روزے کا وجوب چاند دیکھنے پر معلق ہے اور تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی نے روزہ رکھنے کا پہلے سے کوئی معمول بنا رکھا ہو، جیسے ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا یا پھر سوموار یا جمعرات کو روزہ رکھنا اور معمول کا دن رمضان سے ایک دو دن پہلے پڑ جائے، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ رمضان کا استقبال نہيں ہے۔ اسی طرح واجب روزے جیسے قضا اور نذر کے روزے بھی رمضان سے ایک دو دن پہلے رکھے جا سکتے ہيں۔

فوائد

  • تکلف کی ممانعت اور کوئی کمی بیشی کیے بغیر مشروع طریقے سے عبادت کرنے کا وجوب۔
  • اس کی حکمت -واللہ اعلم- یہ ہے کہ فرض عبادتوں کو نفل عبادتوں سے نمایاں رکھا جائے، نشاط و رغبت کے ساتھ رمضان کے لیے تیار رہا جائے اور روزہ اس ماہ مبارک کی مابہ الامتیاز پہچان اور شناخت قرار پائے۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنْ يصوم المسلم قبل رمضان بيوم أو يومين على نية الاحتياط لرمضان؛ لأنّ وجوبَ صيام رمضان عُلِّق برؤية الهلال، ولا حاجة للتكلُّف، إلا أحد كان يصوم صومًا اعتاد عليه كصوم يوم وفطر يوم، أو يوم الاثنين أو الخميس فصادفه فليصمْه؛ وليس ذلك من استقبال رمضان في شيء، ويلحق بذلك ما كان صيامًا واجبًا كالقضاء والنَّذْر.

  • النهي عن التكلف، ووجوب المحافظة على العبادة كما شُرعت بدون زيادة أو نقص.
  • من حكمة ذلك -والله أعلم- تمييز فرائض العبادات من نوافلها، والاستعداد لرمضان بنشاط ورغبة، وليكون الصيام شعار ذلك الشهر الفاضل المميز به.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید