حدیث

جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض یا نفل روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ اسے توڑ نہ دے۔ کیوں کہ اس نے جان بوجھ کر کھایا یا پیا نہيں ہے۔ بلکہ خود اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔

فوائد

  • جو شخص بھول کر کھا یا پی لے، تو اس کا روزہ درست ہے۔
  • بھول کر کھا یا پی لینے پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
  • بندوں پر اللہ کے لطف و کرم، ان کے لیے اللہ کی جانب سے فراہم کردہ آسانی اور انھیں مشقت اور پریشانی سے بچانے کا بیان۔
  • روزہ توڑنے والی چیزوں کی وجہ سے کسی بھی روزے دار کا روزہ اسی وقت ٹوٹے گا، جب اس کے اندر تین شرطیں پائی جائيں: 1- اس نے روزہ توڑنے والا کام علم رکھنے کے باوجود کیا ہو۔ اگر علم نہ رکھتا ہو، تو روزہ نہيں ٹوٹے گا۔ 2- اس نے یاد رہتے ہوئے کیا ہو۔ اگر بھول کر کیا ہو، تو اس کا روزہ درست ہوگا اور اسے قضا بھی نہيں کرنی ہوگی۔ 3- اس نے روزہ توڑنے والا کام اپنے اختیار سے کیا ہو۔ اس پر کوئی زبردستی نہ ہوئی ہو۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن أَكَلَ أو شرب ناسيًا وهو في صوم فريضة أو تطوّع فلْيُتمّ صومَه ولا يُفطر؛ لأنه لم يَتَقَصَّد الفطر، وإنما هو رِزْقٌ ساقَه الله إليه وأطعمه وسَقَاه.

  • صحة صوم من أكل أو شرب ناسيًا.
  • ليس على من أكل أو شرب ناسيًا إثم؛ لأنه ليس باختياره.
  • لُطْفُ الله بعباده والتيسير عليهم ورَفْع المشقّة والحَرَج عنهم.
  • لا يُفطِر الصائم بشيء من المفطِّرات إلا إذا توافرت ثلاثة شروط: الأول: أن يكون عالمًا، فإن كان جاهلًا لم يفطر، الثاني: أن يكون ذاكرًا، فإن كان ناسيًا، فصيامه صحيح ولا قضاء عليه، الثالث: أن يكون مختارًا لا مُكرَهًا بأن يتناول المفطِّر باختياره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید