ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن محمد بن عباد بن جعفر قال: «سألت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما : أَنَهَى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الجمعة ؟ قال: نعم». وفي رواية: «وَرَبِّ الْكَعْبَة».
ترجمہ
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا نبی ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”رب کعبہ کی قسم“۔
تشریح
چونکہ یوم جمعہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے اس لئے نبی ﷺ نے اس دن کو خاص کر کے اس میں روزہ رکھنے یا قیام اللیل کرنے سے منع فرمایا۔ الا یہ کہ وہ شخص اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن بھی روزہ رکھے، یا وہ اس کے معمول کے روزے کے ضمن میں یہ آ جائے۔ یہ ممانعت اس لئے بھی ہے تا کہ عام لوگ کہیں یہ نہ گمان کرنے لگ جائیں کہ جمعہ کے دن بطور خاص زیادہ عبادت کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية
لما كان يوم الجمعة يوم عيد للمسلمين، نهى الشارع عن تخصيصه بصيام أو قيام، إلا أن يصوم يوماً معه قبله أو بعده أو يكون ضمن صوم معتاد، ولئلا يظن العامة أيضاً تخصيص يوم الجمعة بزيادة عبادة على غيره واجبة.
- النهى عن صوم يوم الجمعة.
- جواز صومه إذا قُرن بصيامٍ قبله أو بعده، أو كان في صوم معتاد.
- يحمل النهي في صومه على التنزيه؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يصومه في جملة صومه الذي يصوم. ورخص بصومه إذا قُرن بغيره، ولو كان حراماً ما صِيمَ، كعيد الفطر والنحر.
- حرص السلف على العلم تعلما وتعليمًا.
- جواز الحلف على الفُتْيَا ولو لم يُستحلف.