حدیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب بِعَرَفَاتٍ: من لم يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، ومن لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ -للمحرم-».

ترجمہ

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: ”جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے“۔

تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔

تشریح: العربية

يخبر ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم عَرَفَة بعَرَفَات، فأباح لهم لبس الخُفَين في حال عدم وجود النَّعْلين، ولم يذكر قطعهما أسفل من الكَعْبَيْن، وأباح لهم لبس السراويل لمن لم يجد إزارا ولم يشترط شقه تخفيفاً من الشارع الحكيم سبحانه .

  • كمال نصح النبي -صلى الله عليه وسلم- وحرصه على إبلاغ الشريعة.
  • مشروعية الخطبة في عَرَفَة؛ لتعليم الناس مناسكهم ولبيان قواعد الإسلام.
  • ينبغي تذكير الناس في كل وقت بما يناسبهم.
  • جواز لبس الخُفَيْن لمن لم يجد النَّعْلين ولو سَتَرَا الكَعْبَين.
  • جواز لبس السراويل بدون شق إذا لم يجد الإزار.
  • لا تجب الفدية في حال لبس الخُفَيْن والسَّراويل من غير قطع ولا شق؛ لعدم ذكرها والمقام مقام بيان ولا يجوز تأخير البيان عن وقت الحاجة.
  • سماحة الشريعة الإسلامية ويسرها، إذ لا تكليف إلا بمقدور عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید