حدیث

شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي الوِتْرِ مِنَ العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں کے ذریعہ لیلۃ القدر تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس بات کى زیادہ امید ہوتی ہے کہ لیلۃ القدر ہر سال رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسى ایک میں ہو اور یہ طاق راتیں اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسويں اور انتیسویں راتیں ہیں۔

فوائد

  • شب قدر کی فضیلت اور اسے تلاش کرنے کی ترغیب۔
  • اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب عبادت کیا کریں اور انھیں بڑا اجر وثواب مل سکے۔
  • شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس بات کی امید زیادہ ہے کہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہو۔
  • شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اسی رات میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اتارا اور اسے برکت، قدر ومنزلت اور اس میں کیے گئے عمل صالح کے اثرات کے اعتبار سے ایک ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا۔
  • اس رات کو لیلۃ القدر (دال کے سکون کے ساتھ) یا تو اس کے فضل وشرف کی بنا پر کہا گیا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "فلان عظيم القدر" یعنی فلاں بڑی قدر ومنزلت والا انسان ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کی اضافت کسی چیز کی اضافت اس کی صفت کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ رات بڑی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ والی رات ہے، "ہم نے اسے (قرآن کو) ایک مبارک رات میں اتارا"۔ [سورہ دخان : 3]۔ یا پھر قدر لفظ تقدیر سے ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کى اضافت قدر کى طرف ظرف کی اضافت اس کے مشتملات کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی رات ہے، جس میں سال بھر میں رونما ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے" [سورہ دخان : 4]۔
تشریح: العربية

حَثَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على الاجتهاد في التماس وتَحرِّي وطلب ليلة القدر بالإكثار من العمل الصالح، وهي أرجى أن تكون في الليالي الوترية من العشر الأواخر من رمضان كل عام، وهي: الحادية والعشرون، والثالثة والعشرون، والخامسة والعشرون، والسابعة والعشرون، والتاسعة والعشرون.

  • فضل ليلة القَدْر والحثّ على تَحَرِّيها.
  • من حكمة الله ورحمته أخفى هذه الليلة لِيَجِدَّ الناس في العبادة، طلبًا لها، فيَكثُر ثوابُهم.
  • ليلة القَدْر في العشر الأواخر من رمضان، وفي الأوتار منه أرجى.
  • ليلة القدر هي إحدى ليالي العشر الأواخر من رمضان، وهي الليلة التي أنزل الله عز وجل فيها القرآن على النبي صلى الله عليه وسلم، وجعل هذه الليلة خيرًا من ألف شهر في بركتها، وعظيم قدرها، وأثر العمل الصالح فيها.
  • سميت (ليلة القدْر) بسكون الدال بذلك، إما من الشرف، فيُقال: فلان عظيم القدر، فتكون إضافة الليلة من باب إضافة الشيء إلى صفته، أي الليلة الشريفة، يعني أنها عظيمة القدر شرفًا وفخامة ومكانة إلى آخره، ﴿ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ ﴾ [الدخان: 3]، وإما من التقدير: فتكون إضافتها إليه من إضافة الظرف إلى ما يحتويه، أي هذه الليلة التي يكون فيها تقدير ما يجري في السنة، ﴿ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ﴾ [الدخان: 4].

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید