حدیث

میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عَمْرِو بن العاص رضي الله عنهما قال: «أُخبِر رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أقول: والله لَأَصُومَنَّ النهار، وَلَأَقُومَنَّ الليل مَا عِشْتُ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنت الذي قلتَ ذلك؟ فقلتُ له: قد قُلتُه -بأبي أنت وأمي-. فقال: فإنك لا تستطيع ذلك، فصُم وأفطِر، وَقُمْ وَنَمْ ، الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وذلك مثل صيام الدَّهْرِ. قلت: فإني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأَفطر يومين. قلت: أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأفطر يوما، فذلك مثل صيام داود، وهو أفضل الصيام. فقلت: إني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: لا أفضل من ذلك»، وفي رواية: «لا صوم فوق صوم أخي داود -شَطْرَ الدَّهَرِ-، صم يوما وأفطر يوما».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن میں روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا، لہٰذا آپ ﷺ نے کہا: تم ہی ہو وہ شخص، جس نے یہ بات کہی ہے؟، میں نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ رات کو قیام بھی کر اور سو بھی جا اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر؛ کیوںکہ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ :میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزے کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ میرے پاس اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے رکھنا-سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

تشریح

نبی ﷺ کو یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما نے اس بات کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیشہ روزے سے رہیں گے؛ کبھی بے روزہ نہ رہیں گے اور ہمیشہ قیام اللیل ہی کریں گے؛ کبھی نہیں سوئیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عمل تمھارے لیے باعث مشقت ہوجائے گا اور تم اس کو برداشت نہ کرسکو گے۔ آپ ﷺ نے انھیں آرام اور عبادت دونوں ہی کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی کہ روزہ بھی رکھیں اور نہ بھی رکھیں، قیام اللیل بھی کریں اور سوئیں بھی اور ہر ماہ تین روزے ہی رکھیں؛ تاکہ انھیں سال بھر روز رہ کھنے کا اجر وثواب حاصل ہوجائے۔ لیکن انھوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ آپ ﷺ سے مزید روزوں کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ روزہ رکھنے کے افضل ترین طریقے پر یہ بات موقوف ہوگئی۔ روزہ رکھنے کا افضل ترین طریقہ داؤد علیہ السلام کا تھا؛ کیوں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن کا روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ تاہم خیر و بھلائی کی شدید خواہش کی بنا پر صحابی رسول ﷺ نے مزید روزوں کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔

تشریح: العربية

أن النبي صلى الله عليه وسلم أُخْبِرَ أن عبد الله بن عَمْرٍو -رض الله عنهما- أقسم على أن يصوم فلا يُفطر، ويقوم فلا ينام كلَ عمره، فسأله: هل قال ذلك؟ فقال: نعم. فقال: إن هذا يشق عليك ولا تحتمله، وأرشده إلى الجمع بين الراحة والعبادة فيصوم ويفطر، ويقوم وينام، ويقتصر على صوم ثلاثة أيام من كل شهر؛ ليحصل له أجر صيام الدهر. فأخبره أنه يُطيق أكثر من ذلك، وما زال يطلب الزيادة من الصيام حتى انتهى إلى أفضل الصيام، وهو صيام داود عليه السلام، وذلك أن يصوم يوماً، ويفطر يوماً. فطلب المزيد لرغبته في الخير رضي الله عنه فقال صلى الله عليه وسلم : لا صوم أفضل من ذلك.

  • فضيلة عبد الله بن عَمْرٍو -رضي الله عنهما- وحرصه على العبادة وقوته فيها.
  • جواز الإخبارعن الأعمال الصالحة والأوراد ومحاسن الأعمال التي يقوم بها الشخص، ولا يخفى أن محل ذلك عند أمن الرياء.
  • سماحة شريعة الإسلام، حيث يُكره فيها التعمُّق والتنطُّع، ويُطلب فيها السهولة واليسر؛ لأنه أنشط على العمل، وأدوم عليه.
  • آخر حَد للصيام الفاضل، هو صيام يوم، وفطر يوم، وهو صيام داود -عليه السلام-.
  • كراهة صيام الدهر، لأنه مخالف لقوله عليه الصلاة والسلام: "فصم وأفطر" ولحديث: "لا صام من صام الأبد".
  • أحب الأعمال أدومها وإن قل.
  • استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر.
  • أن أفضل الصيام صيام داود -عليه السلام-.
  • أن التطوع بصوم يوم وفطر يوم مشروع في الأمم السابقة.
  • ثواب الحسنة بعشر أمثالها.
  • تقدير النبي صلى الله عليه وسلم العمل بقدرة صاحبه، إذ قَصرَ عبد الله أولاً على ثلاثة أيام من كل شهر، فلما طلب المزيد ، ورأى النبي صلى الله عليه وسلم فيه الرغبة والقدرة، قال: "فصم يوماَ وأفطر يومين". فلما أظهر الرغبة في طلب الزيادة، أرشده إلى أفضل الصيام فقال: "فصم يوماً وأفطر يوماً".
  • كمال شفقته -صلى الله عليه وسلم- ورحمته بأمته، حيث كان يرشد إلى الأسهل فالأسهل.
  • جواز قول الإنسان في النبي -صلى الله عليه وسلم-: بأبي هو وأمي.
  • ينبغي مراعاة الإنسان لحاله في المستقبل.
  • تقرير الإنسان بما نسب إليه للتثبت من صحته وإلزامه به.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید