ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ (اور) اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگالو۔ (یعنی مہینے کے تیس دن پورے کر لو)“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان مہینہ داخل ہونے اور اس کے نکلنے کی علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : جب تم رمضان مہینے کا چاند دیکھ لو، تو روزہ رکھو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو شعبان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔ اسی طرح جب شوال کا چاند دیکھو، تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو رمضان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔
فوائد
- مہینہ کی شروعات ثابت کرنے کے لیے اعتماد چاند دیکھنے پر کیا جائے گا، حساب پر نہیں۔
- ابن منذر نے اجماع نقل کیا ہے کہ اگر چاند نہ دکھے تو رویت کو پرے رکھ کر صرف حساب کی بنا پرروزہ رکھنا واجب نہیں ہوگا۔
- بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنا ضروری ہے۔
- قمری مہینہ 29 یا 30 دن کا ہی ہوتا ہے۔
- اگر بدلی وغیرہ کی وجہ سے شوال کا چاند نہ دیکھا جا سکے تو رمضان کے تیس روزے مکمل کرنا واجب ہے۔
- کسی ایسی جگہ میں موجود شخص، جہاں روزے کے سلسلے میں مسلمانوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ ہو، یا ایسے لوگ ہوں، جنھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہو، تو اسے بیدار رہنا چاہیے اور خود اپنی رویت یا کسی معتبر شخص کی رویت پر بھروسہ کرکے روزہ رکھنا اور توڑنا چاہیے۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم علامةَ دخول شهر رمضان وخروجه، فقال: إذا رأيتم هلال رمضان فصوموا، فإنْ حَالَ بينكم وبينه غَيْمٌ وسُتِرَ عليكم؛ فعُدُّوا ثلاثين يومًا لشهر شعبان، وإذا رأيتم هلال شوال فأفطروا، فإنْ حال بينكم وبينه غَيْمٌ وسُترَ عليكم؛ فعُدُّوا ثلاثين يومًا لشهر رمضان.
- الاعتماد على الرؤية لا على الحساب في إثبات دخول الشهر.
- نقل ابن المنذر الإجماع على أنه لا يجب الصيام إذا كان دخول شهر رمضان بالحساب فقط دون الرؤية.
- وجوب إكمال شعبان ثلاثين يومًا إذا حال دون رؤية هلال رمضان غَيْمٌ أو نحوه .
- الشهرُ القَمَريُّ لا يكون إلا تسعةً وعشرون يومًا، أو ثلاثين يومًا.
- وجوب إكمال رمضان ثلاثين يومًا إذا حال غيم أو نحوه دون هلال شوال.
- من كان بموضع ليس فيه مَن يَتَفَقَّدُ أَمْرَ المسلمين في الصوم، أو كان ممن يضيِّع ذلك فينبغي أن يراعي ذلك ويَتفقده بمَن يثبت ذلك عنده برؤية نفسه أو برؤية من يثق به؛ فيصوم بذلك ويفطر.