حدیث

غصہ مت کیا کرو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ: «لَا تَغْضَبْ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔

تشریح

ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ ان کو کوئی ایسی بات بتائيں، جو ان کے لیے سودمند ثابت ہو۔ لہذا آپ نے ان سے کہا کہ وہ غصہ نہ کیا کریں۔ یعنی ایک تو غصہ دلانے والی چیزوں سے بچیں اور دوسرا جب غصہ آجائے، تو اپنے اوپر قابو رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ غصے میں آکر قتل کر دیں، مار دیں یا گالی گلوج وغیرہ کرنے لگیں۔ اس صحابی نے کئی بار اپنی بات دہرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر بار بس اتنا کہا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔

فوائد

  • اس حدیث میں غصہ اور غصہ دلانے والی چیزوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ کیوں کہ غصہ ساری برائیوں کی جڑ ہے اور اس سے بچے رہنا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
  • اللہ کے لیے غصہ آنا، جیسے اللہ کے احکام کی پامالی پر غصہ آنا قابل تعریف چیز ہے۔
  • ضرورت پڑنے پر بات کو دہرانا چاہیے، تاکہ سننے والا سمجھ جائے اور بات کی اہمیت ذہن میں بیٹھ جائے۔
  • عالم سے وصیت کی گزارش کرنے کی فضیلت۔
تشریح: العربية

طَلبَ أحدُ الصحابة رضوان الله عليهم من النبي صلى الله عليه وسلم أن يَدُلَّه على شيء ينفعه، فأمره ألّا يغضب، ومعنى ذلك أن يَجتنبَ الأسبابَ التي تحمله على الغضب، وأن يَضبطَ نفسَه إذا حَصَل له الغضب، فلا يَتَمادى مع غضبه بالقتل أوالضرب أوالسب ونحو ذلك. وردَّدَ الرجلُ طَلَبَ الوصيةِ مَرَّات، فلم يَزِدْه صلى الله عليه وسلم في الوصية على "لا تغضب".

  • التحذير من الغضب وأسبابه، فإنه جِماعُ الشر، والتحرُّزُ منه جماعُ الخير.
  • الغضب لله كالغضب عند انتهاك محارم الله من الغضب المحمود.
  • تَكرار الكلام عند الحاجة حتى يَعِيَه السامعُ ويُدرك أهميتَه.
  • فضيلة طلب الوصية من العالِم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید