حدیث

کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابنِ مَسعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ المُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ».

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے : یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے اور وہ جو اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے۔"

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور اس کی اجازت صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس سے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام سرزد ہو جائے : پہلا : جس نے عقد صحیح کی بنیاد پر نکاح کرنے کے باوجود زنا کاری کی۔ ایسے شخص کو سنگ سار کیا جائے گا۔ دوسرا : جس نے کسی معصوم انسان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا۔ ایسے شخص کو کچھ شرطوں کے ساتھ قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرا : جو مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہو۔ خواہ اپنے مذہب یعنی اسلام کو پورے طور پر چھوڑ کر مرتد ہو گیا ہو یا پھر مرتد تو نہ ہوا ہو، لیکن اسلام کی بعض تعلیمات سے روگردانی کر کے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ جیسے بغاوت کی ہو، رہزنی کی ہو یا مسلمانوں سے مائل بہ جنگ ہو جیسے خوارج وغیرہ کا طریقہ ہے۔

فوائد

  • ان تینوں کاموں کو کرنا حرام ہے۔ جو ان میں سے کوئی ایک کام کرے، وہ سزائے موت کا حق دار بن جاتا ہے۔ سزائے موت کا حق دار یا تو کفر کی وجہ سے بنتا ہے۔ اس کی مثال ارتداد کا شکار شخص ہے۔ یا پھر حد کے طور پر۔ بطور حد سزائے موت کا حق دار دو لوگ بنتے ہیں: شادی شدہ زناکار اور جان بوجھ کر کسی کا قتل کرنے والا۔
  • عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اور اسے صاف ستھرا رکھنا واجب ہے۔
  • مسلمان کا احترام واجب ہے۔ وہ معصوم الدم ہے۔
  • مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنے اور جماعت سے الگ نہ ہونے کی ترغیب۔
  • نبی ﷺ کے تعلیم دینے کا بہترین انداز کہ کبھی کبھی آپ اپنی بات تقسیم کے ذریعے رکھتے تھے۔ کیوں کہ تقسیم سے مسائل کا استقصا ہو جاتا ہے اور یاد کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
  • اللہ تعالی نے جرم روکنے، معاشرے کو تحفظ فراہم کرنے اور اسے جرائم سے پاک صاف کرنے کے لیے حدود متعین کیے ہیں۔
  • ان حدود کا نافذ کرنا حکمراں کا کام ہے۔
  • قتل کے مذکورہ تین اسباب کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں۔ البتہ وہ ان تین اسباب کے دائرے سے باہر نہيں ہيں۔ ابن عربی مالکی کہتے ہيں: دیگر اسباب ان تین اسباب سے کسی بھی صورت میں باہر نہيں ہيں۔ کیوں کہ جادو کرنے والا اور اللہ کے نبی ﷺ کو گالی دینے والا اپنا دین چھوڑنے والے کے زمرے میں آ جاتا ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ دمَ المسلم حرام، إلا إنْ فعل واحدة من خصال ثلاث: الأولى: مَن وقع في فاحشة الزنا، وقد تزوج بعقد صحيح؛ فيحل قتله بالرجم. الثانية: من قَتل نفسًا معصومة عمدًا بغير حق، قُتل بشروطه. الثالثة: الخارج عن جماعة المسلمين؛ إما بترك دينه الإسلام كله بالردة، أو المفارق بغير ردة بترك بعضه كأهل البغي، وقطاع الطريق، والمحاربين من الخوارج وغيرهم.

  • تحريم فعل هذه الخصال الثلاث، وأن من فعل واحدة منها استحق عقوبة القتل: إما كفرًا، وهو المرتد عن الإسلام، وإما حدًّا، وهما: الثيب الزاني، والقاتل عمدًا.
  • وجوب حفظ الأعراض ونقائها.
  • وجوب احترام المسلم، وأنه معصوم الدم.
  • الحث على التزام جماعة المسلمين وعدم مفارقتهم.
  • حسن تعليم النبي صلى الله عليه وسلم حيث يَرِدُ كلامُه أحيانًا بالتقسيم؛ لأن التقسيم يحصر المسائل ويجمعها وهو أسرع حفظًا.
  • شرع الله الحدودَ؛ لردع الجناة، ولحماية المجتمع ووقايتِه من الجرائم.
  • تطبيق هذه الحدود هو من اختصاص ولي الأمر.
  • أسباب القتل أكثر من ثلاثة، ولكنها لا تخرج عنها، قال ابن العربي المالكي: ولا تخرج عن هذه الثلاثة بحال، فإنَّ مَن سَحَرَ أو سب نبيَّ الله كفر، فهو داخل في التارك لدينه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید