حدیث

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہو اور اس کے لیے انھیں چيزوں کو ناپسند نہ کرے، جنھیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔

فوائد

  • انسان پر یہ واجب ہے کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ کیوں کہ جو اپنے لیے پسند ہو اسے اپنے بھائی کے لیے پسند نہ کرنے والے کے ایمان کی نفی یہی بتاتی ہے۔
  • دینی اخوت کا درجہ نسبی اخوت سے اوپر ہے۔ لہذا اس کا حق بھی زیادہ واجب ہے۔
  • ایسے تمام اقوال و افعال حرام ہیں جو اس اخوت کے منافی ہوں جیسے دھوکہ، غیبت، حسد اور مسلمان کی جان، مال یا عزت و آبرو پر حملہ وغیرہ۔
  • مہمیز کا کام کرنے والے الفاظ کا استعمال۔ کیوں کہ آپ نے "اپنے بھائی" کا لفظ استعمال کیا ہے۔
  • کرمانی رحمہ اللہ کہتے ہيں: ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہ ناپسند کرے، جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ لیکن اس کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔ کیوں کہ کسی چيز سے محبت سے اس کی ضد سے نفرت لازم آتی ہے۔ لہذا اسے الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّه لا يَتَحقّق الإيمانُ الكامل لأحدٍ من المسلمين حتى يُحبَّ لأخيه ما يحب لنفسه من الطاعات وأنواع الخيرات في الدين والدنيا، ويكره له ما يكره لنفسه، فإن رأى في أخيه المسلم نقصًا في دينه، اجتهد في إصلاحه، وإنْ رأى فيه خيرًا سدَّده وأعانه، ونصحَه في أمر دينِه أو دنياه.

  • وجوب محبة المرء لأخيه ما يحبُّ لنفسه؛ لأن نفي الإيمان عمن لا يحب لأخيه ما يحب لنفسه يدل على وجوب ذلك.
  • الأُخوّة في الله فوق أخوّة النسب، فحقُّها أوجب.
  • تحريم كل ما ينافي هذه المحبة من الأقوال والأفعال كالغش والغيبة والحسد والعدوان على نفس المسلم أو ماله أو عرضه.
  • استخدام بعض الألفاظ المحفِّزة على الفعل؛ لقوله "لأخيه".
  • قال الكِرْماني رحمه الله: ومن الإيمان أيضًا أنْ يُبغِضَ لأخيه ما يبغض لنفسه من الشر، ولم يذكره؛ لأنَّ حب الشيء مستلزم لبغض نقيضه، فترك التنصيص عليه اكتفاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید