ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن الْأَغَرِّ رضي الله عنه، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ».
ترجمہ
اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ دن میں سو بار سے زیادہ اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہيں۔ جب کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف تھے۔ یہ دراصل اللہ کے حضور بندگی اور عاجزی کے اظہار کا کمال تھا۔
فوائد
- ہر شخص کو، چاہے اس کا ایمان جتنا بھی مضبوط ہو، اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے اور توبہ کے ذریعے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص سے اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو"۔
- توبہ کا یہ حکم عام ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب سے ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سے۔
- توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
- نووی کہتے ہيں: توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آنا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم وشرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق تک لوٹانا یا پھر صاحب حق سے معافی وتلافی کرانا ضروری ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
تشریح: العربية
يَأْمُرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم الناسَ بالإكثار مِن التوبة والاستغفار، ويُخْبِرُ عن نفسه أنه يتوب إلى الله تعالى ويستغفره في اليوم أكثر من مائة مرة، وقد غُفِر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، وفي ذلك كمال الذُّلِّ والتعبد لله جل وعلا.
- كلُّ أحدٍ مهما كانت مرتبته ودرجته في الإيمان، فإنَّه يحتاج إلى الرجوع إلى الله تبارك وتعالى، وتكميل نفسه بالتوبة، وأنَّ كلَّ أحدٍ لا يخلو من تقصيرٍ في القيام بحقِّ الله تبارك وتعالى: (وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ).
- التوبة عامة سواء من فعل المحرّمات والذنوب أو من التقصير في فعل الواجبات.
- الإخلاص في التوبة شرط في قبولها، فمن ترك ذنبًا لغير الله لا يكون تائبًا.
- قال النووي: للتوبة ثلاثة شروط: أن يُقْلِع عن المعصية، وأن يَندم على فعلها، وأن يَعزم عزمًا جازمًا ألَّا يعود إلى مثلها أبدًا، فإن كانت المعصية تتعلق بآدمي فلها شرط رابع، وهو: رَدُّ الظلامة إلى صاحبها، أو تحصيل البراءة منه.
- التنبيه على أن استغفار النبي صلى الله عليه وسلم لا يلزم أن يكون لذنوب ارتكبها، ولكن ذلك لكمال عبوديته وتعلقه بذكره سبحانه، واستشعاره عظم حق الله تعالى وتقصير العبد مهما عمل في شكر نعمه، وهو من باب التشريع للأمة من بعده، إلى غير ذلك من الحكم.