حدیث

قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ ایک کھلی صحرائی جگہ پر پہنچے گا تو ان کے اول و آخر (سب کو) دھنسا دیا جائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يَغزُو جَيْشٌ الكَعْبَةَ فإذا كانوا بِبَيْدَاءَ من الأرضِ يُخْسَفُ بأَوَّلِهِم وَآخِرِهِم قالت: قلتُ: يا رسول الله، كيف يخسف بأولهم وآخرهم وفيهم أَسْوَاقُهُم وَمَنْ ليس منهم؟! قال: «يخسف بأولهم وآخرهم ثم يُبْعَثُونَ على نِيَّاتِهِم».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ ایک کھلی صحرائی جگہ پر پہنچے گا تو ان کے اول و آخر (سب کو) دھنسا دیا جائے گا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان کے اول و آخر (یعنی سب کو) کیسے دھنسایا جائے گا جب کہ ان میں بازاری (یعنی حکام کے علاوہ) لوگ بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے اول و آخر (سب) دھنسا دیے جائیں گے۔ پھر وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔

تشریح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ ایک بہت بڑا لشکر بیت اللہ پر حملہ آور ہو گا۔ جب وہ ایک وسیع صحراء میں ہوں گے تو اللہ ان سب کو زمین میں دھنسا دے گا۔ آپ ﷺ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جو خرید و فروخت کے لئے آئے ہوں گے اور کعبہ پر حملہ آور ہونے کی ان کی کوئی بری نیت نہیں ہو گی۔ پھر ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان کے منصوبے سے آگاہ ہوئے بغیر ہی ان کے ساتھ آ گئے ہوں گے۔ نبی ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ: چونکہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے اس لئے انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا، تاہم انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا اور حساب کے وقت اسی کے مطابق ان سے معاملہ کیا جائے گا۔ چنانچہ ہر کسی سے اس کی اچھی یا بری نیت کے لحاظ سے معاملہ کیا جائے گا۔

تشریح: العربية

يخبر صلى الله عليه وسلم عن جيش عظيم يغزو بيت الله الحرام، حتى إذا كانوا في صحراء واسعة خسف الله بهم الأرض، فسألته أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها عن الذين جاءوا للبيع والشراء، ليس لهم قصد سيء في غزو الكعبة، وفيهم أناس ليسوا منهم تبعوهم من غير أن يعلموا بخطتهم؛ فأخبرها صلى الله عليه وسلم أنهم سيخسف بهم لأنهم معهم وسيبعثون ويعاملون عند الحساب على نياتهم فيعامل كل بقصده من الخير والشر.

  • الإنسان يعامل بقصده من الخير والشر.
  • التحذير من مصاحبة أهل الظلم والفجور، والحث على مصاحبة الأخيار.
  • إخبار النبي -صلى الله عليه وسلم- عما أطلعه الله عليه من المغيبات، وهي مما يجب الإيمان بها كما وردت.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید