حدیث

میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه قال: خَطَبَنَا رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةً ما سمعتُ مثلها قَطُّ، فقال: «لو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». فَغَطَّى أَصْحَابُ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وُجُوهَهُم، ولهم خَنِينٌ. وفي رواية: بَلَغَ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم عن أَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ، فقال: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الجَنَّةُ والنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كاليومِ في الخيرِ والشرِ، ولو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». فما أَتَى على أصحابِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يومٌ أَشَدُّ مِنْهُ، غَطَّوا رُءُوسَهُمْ ولهم خَنِينٌ.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ نے ایسا خطبہ دیا کہ کبھی ایسا خطبہ نہیں دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روو زیادہ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا اور وہ سسکیاں بھر بھر کے رو رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ تک اپنے صحابہ سے متعلق کوئی بات پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں گزرا۔ انہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے اور سسکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک ایسا وعظ فرمایا کہ اس طرح کا وعظ پہلے کبھی نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے جنت میں آج جتنی خیر دیکھی اس سے زیادہ میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی میں نے اتنا شر کبھی دیکھا ہے جتنا میں نے آج دوزخ میں دیکھا ہے۔ اگر تم آخرت کی ہولناکیوں کو اور جنت کی نعمتوں اور دوزخ میں جو عذاب ہو گا اس کو ویسے جان لو جیسے میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ وہ زار و قطار رو رہے تھے۔

تشریح: العربية

وعظ النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه موعظة لم يسمعوا مثلها قط، وكان من جملتها أن قال: عرضت علي الجنة والنار، فلم أر خيراً أكثر مما رأيته اليوم في الجنة، ولا شراً أكثر مما رأيته اليوم في النار، ولو تعلمون ما أعلم من أهوال الآخرة وما أُعِد في الجنة من نعيم وفي النار من العذاب الأليم لضحكتم قليلا ًوبكيتم كثيراً، فما جاء على أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يوم أشد منه؛ فبكوا بكاء شديداً.

  • استحباب البكاء خوفاً من عقاب الله، وعدم إكثار الضحك؛ لأنه يدل على الغفلة وقسوة القلب.
  • تأثر الصحابة -رضي الله عنهم- بالموعظة، وشدة خوفهم من عقاب الله -عز وجل-.
  • استحباب تغطية الوجه عند البكاء.
  • الجنة والنار مخلوقتان وموجودتان الآن.
  • من اطلع على حقائق الآخرة لم يضحك إلا قليلاً، وكان بكاؤه كثيراً للأهوال والأحوال التي لا يعلمها إلا الله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید