حدیث

نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي أمامة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كَانَ إذا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قال: «الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا».

ترجمہ

ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنے صحابہ کو اقوال و افعال کے ذریعے سنت کی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ سے جو اذکار مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ اپنے سامنے موجود کھانے کے برتن اٹھاتے تو فرماتے: ”الحَمْدُ للهِ“ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر در حقیقت صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کا سزاوار نہیں۔ ”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔ ”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔ ”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔ ”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ ”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلم أصحابه السنة بأقواله وأفعاله، ومن الأذكار المأثورة عنه عند الانتهاء من طعامه أنه كان "إذا رفع مائدته" أي إذا فرغ من أكله، وبدأ في رفع آنية الطعام التي أمامه "قال: الحمد لله" ومعناه أن الثناء والشكر كله في الحقيقة لله وحده دون سواه. "حمداً كثيراً" أي ثناءً كثيراً يليق بجلاله، وجماله وكماله، وشكراً جزيلاً يوازي نعمه التي لا تحصى، ومنته التي لا تستقصى (وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا) وقوله: "طيباً" أي: خالصاً من الرياء والسمعة. "مباركاً" أي مقترناً بالقبول الذي لا يرد؛ لأن البركة معناها الخير. والعمل الذي لا يقبل لا خير فيه. "غير مَكْفِي" أي نحمده عز وجل حال كونه هو الكافي لعباده، ولا يكفيه أحد من خلقه؛ لأنه لا يحتاج إلى أحد. "ولا مودع" حال أخرى أي ونحمده سبحانه حال كونه غير متروك، أي لا يتركه منا أحد لحاجتنا جميعاً إليه.

  • استحباب حمد الله تعالى في آخر الطعام تأسيا برسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
  • الله -تعالى- وحده المستحق للحمد دون غيره؛ فهو صاحب النعم.
  • لا أحد يسد حاجات العباد إلا الله -تعالى-.
  • العباد كلهم محتاجون إليه وهو مستغن عنهم متفضل عليهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید