حدیث

جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يُصَلُّونَ لكم، فإن أصابوا فلكم، وإن أخطأوا فلكم وعليهم".

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا“۔

تشریح

نبی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ کچھ ائمہ یعنی حکمران ایسے آئیں گے، جو تمھیں نماز پڑھائیں گے، اگر وہ خیر و خوبی کے ساتھ نماز ادا کریں، تو تمھارے اور ان کے حق میں اجر و ثواب کا باعث ہوگی اور اگر نماز میں بگاڑ پیدا کردیں، تو تمھیں اجر و ثواب حاصل ہوجائے گا اور نماز کی خرابی و بگاڑ کا وبال ان کے سر ہوگا۔ یہ بات گرچہ امرا کے تعلق سے کہی گئی ہے، لیکن مساجد کے ائمہ بھی اس میں شامل ہیں، ان میں سے ہر شخص نماز کو بحسن و خوبی یا بگاڑ کر ادا کرنے کے اعتبار سے بدلے کا مستحق ہوگا۔ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ امرا و حکمرانوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا واجب ہے۔ اگر وہ نماز خراب طریقے سے پڑھائیں اور مقررہ اوقات میں ادا نہ کریں، تو ہم پر واجب یہی ہے کہ ان سے علٰحدگی اختیار نہ کریں اور نماز باجماعت انھیں کے مطابق موخر کرکے پڑھ لیا کریں۔ ہمارا یہ نماز کو اول وقت سے موخر کرکے پڑھنا، جماعت کی موافقت اور علٰحدگی سے بچنے کی وجہ سے عذر پر مبنی ہوگا اور ہمیں اول وقت میں نماز ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔ لیکن تاخیر اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز کا وقت ختم نہ ہونے پائے۔ خیال رہے کہ لوگوں اور حکمرانوں سے علٰحدگی اختیار کرنا، لوگوں کو ان کے خلاف بغاوت پر اکسانا اور ان کی برائیوں کو عام کرنا، یہ سارے کام دین اسلام سے دور کرنے کے ذرائع و اسباب ہیں۔

تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن هناك أئمة يعني أمراء يصلون لكم، فإن أحسنوا فلكم ولهم الأجر، وإن أساءوا فلكم الأجر على الصلاة وعليهم وزر الإساءة فيها، وهذا وإن كان في الأمراء فإنه يشمل أيضًا أئمة المساجد، كل منهم على حسب إحسانه للصلاة أو إساءتها، وفي الحديث إشارة إلى أنه يجب الصبر على ولاة الأمر وإن أساءوا في الصلاة وإن لم يصلوها على وقتها، فإن الواجب ألا نشذ عنهم وأن نؤخر صلاة الجماعة كما يؤخرون، وحينئذ يكون تأخيرنا للصلاة عن أول وقتها يكون تأخيرًا بعذر لأجل موافقة الجماعة وعدم الشذوذ ويكون بالنسبة لنا كأننا صلينا في أول الوقت، والتأخير مشروط بألا يخرج وقت الصلاة، وأن الشذوذ عن الناس وعن ولاة الأمور والبعد عنهم وإثارة الناس عليهم ونشر مساوئهم كل هذا مجانب للدين الإسلامي.

  • الرد على من يزعم أنه إذا فسدت صلاة الإمام فسدت صلاة المأموم، وصحة صلاة المأمومين قال بها الجمهور من الفقهاء.
  • في الحديث إشارة إلى أنه يجب الصبر على ولاة الأمر وإن أساءوا في الصلاة وإن لم يصلوها على وقتها فإن الواجب ألا نشذ عنهم وأن لا نؤخر الصلاة كما يؤخرونها.
  • بيان فضل صلاة الجماعة.
  • الإمام ضامن بمعنى أنه يتحمل خطأ بعض المأمومين خلفه، ولا يحملون خطأه فتصح صلاتهم دونه عند وجود خلل في الصلاة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید