حدیث

کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبرنہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا ہے،آسانی کرنے والا ہے، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن مسعود رضي الله عنه مرفوعاً: «ألا أخبركم بمن يحرم على النار؟ أو بمن تحرم عليه النار؟ تحرم على كل قريب هَيِّنٍ لَيِّنٍ سهل».

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا، آسانی کرنے والا، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔

تشریح

کیا میں تمہیں اسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جسے جہنم سے دور رکھا جائےگا یا جس سے جہنم دور رکھی جائےگی ؟ جہنم ہر ایسے شخص سے دور رکھی جائے گی جو طاعت گزاری کے مقامات پر لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے (لوگوں سے قریب ہوتا ہے) اور مقدور بھر ان سے لطف و مہربانی سے پیش آتا ہے اور اسی طرح ہر بُردبار و نرم مزاج اور لوگوں کے ساتھ کشادگی کا معاملہ کرنے والے سے بھی جہنم دور رکھی جائے گی۔

تشریح: العربية

ألا أخبركم بمن يُمنع عن النار، أو تُمنع عنه، تمنع على كل قريب من الناس بمجالستهم في أماكن الطاعة وملاطفتهم قدر الاستطاعة، وكل حليم لين الجانب، سَمْحٍ في معاملة الناس.

  • مكانة الأخلاق الحسنة وأنها منجاة من النار.
  • استحباب ملاطفة الناس، وتسهيل الجانب لهم وقضاء حوائجهم.
  • حسن الأخلاق مع الناس من الإيمان.
  • استخدام الداعي أسلوب الترغيب يؤدي إلى قبول الحق والثبات عليه.
  • ينبغي تنبيه المتعلم أو السامع على الأمور التي لها شأن.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید