ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبدِ اللهِ بنِ بُسْرٍ رضي الله عنه قال: كان للنبيِّ صلى الله عليه وسلم قَصْعَةٌ يقالُ لها: الغَرَّاءُ يحملها أَرْبَعَةُ رِجَالٍ؛ فلما أَضْحَوْا وسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بتلك القَصْعَةِ -يعني وَقَدْ ثُرِدَ فيها- فالتَفُّوا عليها، فلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقال أعرابيٌّ: ما هذه الجِلْسَةُ؟ فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، ولم يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا»، ثم قال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا، ودَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا».
ترجمہ
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کے ہاں ایک بڑا پیالہ تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے۔ اس کو” غراء“ کہا جاتا تھا۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور لوگ چاشت کی نماز پڑھ لیتےتو وہ پیالہ لایا گیا۔ یعنی اس میں ثرید تیار کیا گیا تھا۔لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی (اور بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو گئی) تو آپ ﷺ دو زانو بیٹھ گئے۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ: یہ کیسے بیٹھے ہیں؟ (یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکساری کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی بلندی (درمیانی حصے) کو چھوڑ دو، تمہارے لیے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔
تشریح
نبی ﷺ کے پاس ایک کھانے کا برتن تھا جسے ''غراء'' کہا جاتا تھا۔ اسے چار آدمی مل کر اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہو جاتا اور انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا اور روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں ڈال دیا گیا۔ وہ سب اس برتن کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی اور بیٹھنے کا حلقہ ان کے لیے تنگ پڑ گیا تو نبی ﷺ اپنے بھائیوں کے لیے کشادگی پیدا کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں کے بل اور اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھ گئے۔ حاضرین میں سے ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیسے بیٹھنا ہوا! (ایسا اس نے اس لیے پوچھا) کیونکہ یہ بیٹھنے کا بہت ہی متواضع انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے نبوت و علم عطا فرما کر متواضع بندہ بنایا ہے اور مجھے متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔ نبی ﷺ نہ تو متکبر تھے اور نہ ظالم۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: برتن کے کناروں سے کھاؤ اور اس کی چوٹی (درمیانی حصہ) کو چھوڑ دو، اس میں برکت ہو جائے گی۔ نبی ﷺ نے برتن کے کناروں سے کھانے اور اس کے بلند حصے کو چھوڑ رکھنے کا حکم دیا اور وضاحت فرمائی کہ یہ کھانے میں برکت پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
تشریح: العربية
كان للنبي صلى الله عليه وسلم وعاء يؤكل فيه يقال له الغراء يحملها أربعة رجال، فلما دخلوا في وقت الضحى وصلوا صلاة الضحى جيء بها وفُتَّ الخبز فيها، فاستداروا حولها، فلما كثروا وضاقت بهم الحلقة قعد النبي صلى الله عليه وسلم على ركبتيه جالسا على ظهور قدميه توسعة على إخوانه، فقال أعرابي من الحاضرين: ما هذه الجِلسة يا رسول الله! لما فيها من التواضع، فقال صلى الله عليه وسلم: إن الله جعلني عبدا كريما بالنبوة والعلم، ولم يجعلني جَبَّارًا عنيدًا، فلم يكن صلى الله عليه وسلم متكبرًا ولا جائرًا، ثم قال صلى الله عليه وسلم: كلوا من حواليها ودعوا ذروتها يبارك فيها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بالأكل من جوانبها وترك أعلاها وبين أن ذلك من أسباب البركة في الطعام.
- جواز تخصيص قصعة للطعام.
- جواز إطلاق وصف على القصعة، أو تسميتها بما اشتهرت به.
- كرم النبي صلى الله عليه وسلم وتواضعه، وعنايته بأصحابه وجلسائه.
- جواز الجلوس جماعة بعد الفجر لانتظار صلاة الضحى وصلاتها فرادى.
- خدمة الأصحاب وإعانتهم لأخيهم وحملهم حاجته له.
- استحباب الاجتماع على الطعام، واستحباب الجلسة المذكورة، وخاصة عند ضيق المجلس، وأنها من شأن الكرام.
- بيان استحباب مشاركة الكبير والقادة والأمراء وغيرهم لعامة الناس في طعامهم وشرابهم، وعدم تخصيص أنفسهم بشيء زائد عن العامة.
- التنفير من الكبر والترفع على الآخرين وردّ الحق.
- البدء بالطعام من جوانب القصعة، والحرص على إبقاء ما فيه من البركة والخير وعدم إزالته.
- مراقبة أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم له، واستفسارهم عما لم يعقلوا أو جهلوا حكمته ليقتدوا به.
- البركة تكون في الوسط، وهي تؤثر في الطعام كله.
- تعليم الناس كيفية الأكل.