ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ القِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ».
ترجمہ
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں قیامت کے دن کوئی بھی شخص حساب کی جگہ سے جنت یا جہنم کی جانب اس وقت تک بڑھ نہیں سکے گا، جب تک اس سے کچھ باتیں پوچھ نہ لی جائيں : 1- اس نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری؟ 2- اس نے جو علم حاصل کیا تھا، کیا اسے اللہ کے لیے حاصل کیا تھا، کیا اس پر عمل کیا تھا اور کیا اسے اس کے مستحق تک پہنچایا تھا؟ 3- اس کے پاس جو مال تھا، اسے کہاں سے کمایا تھا؟ کمائی کے راستے حلال تھے یا حرام؟ ساتھ ہی اسے کہاں خرچ کیا تھا؟ اللہ کی رضامندی کے کاموں میں یا ناراضگی کے کاموں میں۔ 4- اسے جو جسم، قوت، عافیت اور جوانی ملی ہوئی تھی، اسے کن کاموں میں خرچ کیا تھا؟
فوائد
- زندگی کو اللہ کو راضی کرنے والے اعمال میں لگانے کی ترغیب۔
- بندوں کو اللہ کی بے شمار نعمتیں حاصل ہیں اور ہر بندے کو اللہ کے حضور اسے ملی ہوئی نعمتوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اس لیے اسے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی رضا کے کاموں میں ہی خرچ کرنا چاہیے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّه لا يُجاوِزُ أحدٌ مِن الناس مَوقِفَ الحسابِ يوم القيامة إلى جنةٍ أو نارٍ حتى يُسألَ عن أمور: الأول: حياتِه فِيمَ أَفْنَاها وقضاها؟ الثاني: عِلْمِهِ هل طلبه لله؟ وهل عمل به؟ وهل بلّغه لمستحقه؟ الثالث: مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ أمن حلال أم حرام؟ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ فيما يرضي الله أو ما يسخطه؟ الرابع: جِسْمِهِ وقوّته وعافيته وشبابه فيمَ أَبْلَاه واستخدمه؟
- الحث على اغتنام الحياة فيما يرضي الله تعالى.
- نعم الله على العباد كثيرة، وسيسأله عن النعيم الذي كان فيه، فعليه أن يضع نعم الله فيما يرضيه.