حدیث

یوں نہ کہو کہ ’عليكَ السلامُ‘، کیونکہ ’علیک السلام‘ سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے، اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي جرَيٍّ جابر بن سُلَيْمٍ رضي الله عنه قال: رأيت رجلاً يصْدُرُ الناس عن رأيه، لا يقول شيئاً إلا صدروا عنه، قلت: من هذا؟ قالوا: رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت: عليك السلام يا رسول الله - مرتين - قال: «لا تقل: عليك السلام، عليك السلام تحية الموتى، قل: السلام عليك» قال: قلت: أنت رسول الله؟ قال: «أنا رسول الله الذي إذا أصابك ضُرٌّ فدعوته كشفه عنك، وإذا أصابك عام سَنَةٍ فدعوته أنْبَتَهَا لك، وإذا كنت بأرض قَفْرٍ أو فَلَاةٍ فَضَلَّتْ راحلتك، فدعوته ردها عليك» قال: قلت: اعْهَدْ إِليَّ. قال: «لا تَسُبَنَّ أحداً» قال: فما سَبَبْتُ بعده حُرًّا، ولا عبداً، ولا بعيراً، ولا شاة، «ولا تحْقِرَنَّ من المعروف شيئاً، وأن تكلم أخاك وأنت مُنْبَسِط إليه وجهك، إنَّ ذلك من المعروفِ، وارفعْ إزارك إلى نصف الساق، فإِنْ أبيت فإلى الكعبين، وإياك وإسبال الإزار، فإنها من المَخِيلَةِ. وإِنَّ اللهَ لا يحب المَخِيلَةَ؛ وإِنِ امرُؤٌ شتمك وعَيَّرَكَ بما يعلم فيك فلا تُعَيِّرْهُ بما تعلم فيه، فإِنَّما وبال ذلك عليه».

ترجمہ

ابوجری رضی اللہ عنہ جن کا نام جابر بن سلیم ہے کہتے ہیں کہ (جب میں مدینہ آیا تو) میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو مرتبہ یہ کہا ’علیک السلام يا رسول اللہ‘۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ ’علیک السلام‘ نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو! اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے، اگر تمہیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے اور اگر تم کسی بے آب و گیاہ زمین میں، یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا کسی کو برا بھلا نہ کہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برابھلا نہیں کہا نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔ کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو تو خندہ پیشانی اختیار کرو کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے اور تم اپنی ازار (یعنی پاجامہ، لنگی وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک اونچی رکھو، اگر اتنی اونچی رکھنا تمہیں پسند نہ ہو تو ٹخنوں تک رکھو مگر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے بچو! اس لیے کہ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ نیز اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب پر تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم انتقاما اس کے کسی عیب پر جسے تم جانتے ہو اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔

تشریح

جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس لوگ آتے اور وہ جو کچھ وہ کہتا اس پر عمل کرتے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس پر میں کہنے لگا کہ ’عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہو۔ یہ تو مردہ لوگوں کا سلام ہے ۔ اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ۔ یعنی میں ہی ہوں جسے اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے عاجزی و لاچاری کے ساتھ پکارو تو وہ تم سے وہ مصیبت دور کردے۔اور اگرخشک سالی آن پڑے اور زمین سے کچھ پیدا نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ اس میں تہمارے لیے غلہ اگا کر بڑا کردے ۔ اگر تم کسی ایسی زمین میں ہو جہاں نہ پانی ہے اور نہ کسی انسان کا نام و نشان اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری کو تم تک لوٹا دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرما دیں جو میرے لیے سود مند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کسی کو برا بھلا مت کہو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ نہ کسی آزاد انسان کو اور نہ کسی غلام کو ۔ نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے نہ چھوڑو۔ اورچہرے کی بشاشت کے ساتھ اپنے بھائی سے ملنے کو ہیچ نہ جانو کیونکہ یہ بھی نیکی ہے۔ اپنی ازار اور دیگر لباس کو نصف پنڈلی تک اونچا رکھو۔ اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر ٹخنوں تک اونچا رکھو۔ ٹخنوں اور نصف پنڈلی کے درمیان رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور اپنی ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر اور خودپسندی کی علامت ہے اور اللہ کو یہ پسند نہیں ۔اگر کوئی تمہیں برا بھلا کہے یا پھر تمہیں تمہارے گناہ اور برے افعال یاد دلا کر عار دلائے تو تم اس کی برائیوں کے ساتھ اسے عار مت دلاو۔ کیونکہ روز قیامت اس کا وبال اسی پر ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی اس پر آجائے۔

تشریح: العربية

قال جابر بن سليم رضي الله عنه: أبصرت رجلاً يرجع الناس إلى قوله، لا يقول لهم شيئاً إلا فعلوه، فقلت لهم: من هذا، قالوا: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله، فقال صلى الله عليه وسلم: لا تقل عليك السلام فإنها تحية الموتى، ولكن قل: السلام عليك. فقلت: أأنت رسول الله، قال: نعم أنا رسول الله؛ أي: أنا الذي أرسله الله الذي إذا أصابك فقر ومصيبة فدعوته بتضرع وافتقار؛ رفع عنك ذلك الضرر، وإذا أصابك عام قحط لم تنبت الأرض فيه شيئاً فدعوته؛ أوجد لك فيها النبات ونمَّاه لك، وإذا كنت في أرض ليس فيها ماء ولا ناس، وضاعت راحلتك فدعوته؛ ردها عليك.فقلت له: أوصني بما ينفعني، قال: لا تشتم أحداً. فما سببت بعد ذلك حراً ولا عبداً ولا بعيراً ولا شاة، ثم قال صلى الله عليه وسلم: ولا تترك شيئاً من المعروف استصغاراً له، ولا تحقر خطابك لأخيك وفي وجهك البشر له؛ فإن ذلك من المعروف، وارفع إزارك وغيره من الثياب إلى نصف الساق، فإن تركت فعل ذلك، فارفع إلى الكعبين؛ فلا جناح فيما بين الكعبين إلى نصف الساق، واحذر من إسبال الإزار فإنه من الكبر والعجب والله جل وعلا لا يحب ذلك، وإن أحد شتمك أو عيَّرك بما فيك من الذنوب والأفعال القبيحة، فلا تعيِّره بما فيه؛ إن عاقبة ذلك عليه يوم القيامة، وقد يعجل بعضه في الدنيا.

  • سرعة تنفيذ أحكام الله من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، واستجابتهم لرسول الله صلى الله عليه وسلم.
  • وجوب التحاكم في الأمور كلها إلى الله ورسوله، وعدم جواز الخروج عليهما.
  • يجوز في تحية الموتى قول عليك السلام والسلام عليكم، لكن جرت العادة أن عليك السلام تحية الموتى.
  • جواز السؤال للتثبت لا للتعنت، فقد سأل الصحابي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت رسول الله؟
  • أمور العباد كلها بيد الله الذي له الخلق والأمر.
  • التذكير بنعم الله على العباد مدعاة لدوام الشكر.
  • استحباب طلب النصيحة من أهلها.
  • وجوب إخلاص النصح للمنصوح.
  • حرمة السباب والشتم واللعن؛ لأنها ليست من صفات المؤمنين بل من صفات الشياطين.
  • عدم استصغار شيئا من شعائر الدين، أو استحقار أمر من المعروف.
  • استحباب انبساط الوجه عند لقاء الإخوان، والتودد في الكلام عند مخاطبتهم.
  • استجابة الصحابة للرسول صلى الله عليه وسلم، والتزامهم بما يوصيهم ويرشدهم إليه.
  • إزرة المؤمن إلى نصف الساق، فإن أحب الإطالة؛ فإلى الكعبين ولا يزيد.
  • إسبال الإزار من الخيلاء، فالمسبل سواء قصد أم لم يقصد فقد وقع في المخيلة.
  • وجوب الستر على المسلمين، وعدم كشف عوراتهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید