حدیث

نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا، نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سعيد بن الحارث: أنه سأل جابرا رضي الله عنه عن الوضوء مما مَسَّتِ النارُ، فقال: لا، قد كنا زمن النبي - صلى الله عليه وسلم - لا نجد مثل ذلك الطعام إلا قليلا، فإذا نحن وجدناه، لم يكن لنا مَنَادِيلُ إلا أَكُفَّنَا، وسَوَاعِدَنَا، وأَقْدَامَنَا، ثم نصلي ولا نتوضأ.

ترجمہ

سعيد بن الحارث روايت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے (کھانے کے بعد) جو آگ پر پکی ہو وضو کے متعلق پوچھا (کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا (اور ہم انہی سے اپنے ہاتھ صاف کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔

تشریح

سعید بن الحارث نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ پر پکایا یا بھونا گیا ہو کہ آیا اس پر پھر سے وضو کرنا واجب ہے یا نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی شے کھانے سے وضو کرنا واجب نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نبی ﷺ کے زمانے میں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آیا کرتا تھا اور جب کبھی ہمیں ایسا کھانا مل جاتا تو (کھانے کے بعد) کھانے کی چکنائی کو صاف کرنے کے لیے ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم اپنی انگلیوں کو چاٹ کر انہیں اپنی ہتھیلیوں، بازؤوں اور پاؤں کے ساتھ پونچھ لیا کرتے تھے اور پھر نماز پڑھ لیتے اور نئے سرے سے وضو نہیں کرتے تھے۔

تشریح: العربية

سأل سعيدُ بن الحارث جابرَ بن عبد الله رضي الله عنه عن الوضوء مما مسته النار بطبخ أو شوي ونحو ذلك هل يجب أم لا؟ فقال جابر: لا يجب الوضوء منه ثم بين دليله في ذلك، فقال: قد كنا في زمان النبي صلى الله عليه وسلم لا نجد مثل ذلك الطعام إلا قليلا، فإذا وجدناه لم يكن لنا مناديل نمسح بها دَسَم الطعام؛ ولكن كنا نمسح أصابعنا بعد لعقها بأكفنا وسواعدنا وأقدامنا، ثم نصلي ولا نتوضأ.

  • ما جاء من الأمر بالوضوء بعد أكل ما مسته النار محمول على الاستحباب بدلالة هذا الحديث.
  • قلة الطعام في أول عهد النبوة، وصبر أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم على ضيق العيش.
  • أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتبرون الدين أهم من الطعام والشراب.
  • استعمال المناديل جائز عند توفره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید