ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عباس وأنس بن مالك وعبد الله بن الزبير وأبي موسى الأشعري رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لو أن لابنِ آدمَ واديًا من ذَهَبٍ أَحَبَّ أن يكونَ له واديانِ، ولَنْ يملأَ فَاهُ إلا الترابُ، ويَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ».
ترجمہ
عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے“۔
تشریح
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ایک وادی مل جائے تو اپنی طبعی لالچ کی بنا پر وہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دو اور وادیاں ہوں اور یہ کہ تا دم موت وہ دنیا کی چاہت میں گرفتار رہتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے اور اس کا پیٹ اس کی قبر کی مٹی سے بھر جاتا ہے۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أنه لو حصل لابن آدم واديا مملوءا من ذهب، لأحب من حرصه الذي هو طبعه أن يكون له واديان آخران، وأنه لا يزال حريصا على الدنيا حتى يموت ويمتلئ جوفه من تراب قبره.
- شدة حرص الإنسان على جمع المال وغيره من متاع الدنيا.
- ذم الاستكثار من المال وتمني ذلك والحرص عليه.
- يقبل الله تعالى توبة من تاب من الصفات المذمومة.