حدیث

اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملتی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: أنَّ ناسًا من الأنصارِ سألوا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - فأعطاهم، ثم سألوه فأعطاهم، حتى نَفِدَ ما عنده، فقال لهم حين أنفقَ كلَّ شيءٍ بيده: «ما يَكُنْ عندي من خيرٍ فلن أَدَّخِرَهُ عَنْكُم، ومَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفِّهُ اللهُ، ومَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ، ومَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ. وما أُعْطِيَ أَحَدٌ عطاءً خَيرًا وأَوسع من الصبرِ».

ترجمہ

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔

تشریح

انصار میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے مال مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر انہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ ان سے بچا کر رکھ لیں اور انہیں نہ دیں۔ بلکہ اب تو آپ ﷺ کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں دستِ سوال دراز نہ کرنے، بے نیازی اختیار کرنے اور صبر کرنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جو شخص اللہ کے پاس اس کے لیے جو کچھ ہے اس کی بنا پران اشیا سے بے نیازی اختیار کرتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں تو اللہ عز و جل اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اصل بے نیازی تو دل کی بے نیازی ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی بنا پر لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بے نیازی برتتا ہے تواللہ بھی اسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اوراسے عزت نفس رکھنے والا شخص بنا دیتا ہے جو مانگنے سے دور رہتا ہے۔جو بندہ ان عورتوں سے اپنے آپ کو باعفت رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس پر حرام ہیں تو اللہ بھی اسے باعفت بنا دیتا ہے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اللہ صبر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر جو عنایات ہوتی ہیں جیسے رزق و غیرہ، ان میں سے کوئی بھی صبر سے بہتر اور اس سے بڑی نہیں ہے۔

تشریح: العربية

سأل ناس من الأنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم، حتى نفد ما عنده، ثم أخبرهم أنه لا يمكن أن يدخر شيئا عنهم فيمنعهم، ولكن ليس عنده شيء، وحثهم على الاستعفاف والاستغناء والصبر. فأخبرهم أنه من يستغن بما عند الله عما في أيدي الناس؛ يغنه الله عز وجل، فالغنى غنى القلب، فإذا استغنى الإنسان بما عند الله عما في أيدي الناس؛ أغناه الله عن الناس، وجعله عزيز النفس بعيدًا عن السؤال. وأنه من يستعفف عما حرم الله عليه من النساء يعفه الله عز وجل ويحميه ويحمي أهله أيضًا. وأنه من يتصبر يصبره الله، أي يعطيه الله الصبر. وما من الله على أحد بعطاء من رزق، أو غيره؛ خيرًا وأوسع من الصبر.

  • كرم النبي صلى الله عليه وسلم وما جُبل عليه من مكارم الأخلاق.
  • ليس الغنى الممدوح في الشرع بكثرة المال والمتاع في يد صاحبه ولكن الغنى المحمود أن يكون الإنسان غني النفس بالله -تعالى-.
  • الترغيب بالقناعة والاستعفاف.
  • تُنال مكارم الأخلاق ومعالي الصفات بالصبر.
  • جواز إعطاء السائل مرتين.
  • جواز الاعتذار إلى السائل.
  • جواز السؤال للحاجة، وإن كان الأولى تركه والصبر حتى يأتي الله بالفرج.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید