ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جابر بن عبد الله وأبو هريرة رضي الله عنهم مرفوعاً: «مثلي ومثلُكم كمثل رجلٍ أَوْقَدَ نارًا فجعل الجنادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فيها، وهو يَذُبُّهُنَّ عنها، وأنا آخذٌ بحُجَزِكُم عن النار، وأنتم تَفَلَّتُون من يَدَيَّ».
ترجمہ
جابر بن عبد اللہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور یہ شخص انہیں اس سے ہٹا رہا ہے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو“۔
تشریح
نبی ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ کا معاملہ آپ ﷺ کی امت کے ساتھ ایسے ہے جیسے صحراء میں موجود وہ شخص جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے آ آ کر اس میں گرنے لگے کیونکہ عموماً پروانے، پتنگے اور چھوٹے کیڑے مکوڑے ایسے ہی کرتے ہیں کہ جب کوئی انسان خشکی پر آگ جلاتا ہے تو وہ اس کی روشنی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ میں تمہیں اس آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہو اور ایسا نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ ﷺ کی سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تشریح: العربية
يبين النبي صلى الله عليه وسلم أن حاله مع أمته كحال رجل في برية، أوقد نارًا فجعل الجنادب والفراش يقعن فيها؛ لأن هذه هي عادة الفراش والجنادب والحشرات الصغيرة، إذا أوقد إنسان نارًا في البر؛ فإنها تأوي إلى هذا الضوء. ويقول: لأمنعنكم من الوقوع فيها، ولكنكم تفلتون من يدي، وذلك بمخالفة النبي صلى الله عليه وسلم وترك سنته.
- حرص الرسول صلى الله عليه وسلم ورحمته بأمته.
- دلَّ على جهل كثير من الناس حيث يأبون إلا مخالفة الدين، وفي هذه المخالفة شقاؤهم، وقد يصل بهم ذلك إلى العذاب في نار جهنم.