حدیث

شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «الشهداء خمسة: المطعون والمبطون، والغريق، وصاحب الهَدْمِ، والشهيد في سبيل الله». وفي رواية «ما تَعُدُّونَ الشهداء فيكم؟» قالوا: يا رسول الله، من قتل في سبيل الله فهو شهيد. قال: «إن شهداء أمتي إذا لقليل» قالوا: فمن هم يا رسول الله؟ قال: «من قتل في سبيل الله فهو شهيد، ومن مات في سبيل الله فهو شهيد، ومن مات في الطاعون فهو شهيد، ومن مات في البطن فهو شهيد، والغريق شهيد».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمايا: ”شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا): ”تم اپنے میں سے کن لوگوں کو شہيد شمار کرتے ہو؟“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہيد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میری اُمت میں شہداء کم ہوں گے“۔ صحابۂ كرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر کون شہید ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے ميں (طبعی) موت مرجائے وہ شہید ہے، جو طاعون کی بیماری ميں فوت ہوجائے وہ شہید ہے، جو پیٹ کی بیماری سے فوت ہوجائے وہ شہید ہے اور جو ڈوب کر مرجائے وہ شہید ہے“۔

تشریح

مجموعی طور پر شہداء کے پانچ اصناف ہیں: وہ شخص جو طاعون میں مبتلا ہوا اور اسی سے مرگیا، یہ ایک مہلک وبا ہے۔ اور جو پیٹ کی بیماری سے مرجائے۔ اور جو ڈوب کر مرجائے بشرطیکہ اس کا یہ سمندری سفر حرام نہ ہو، یا پھر جو سیلاب یا سوئمنگ پول وغیرہ میں ڈوب کر مرجائے۔ اور جو ملبے تلے دب کر مرجائے جیسے کہ اس پر کوئی دیوار گرجائے۔ اور جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے۔ اور یہ سب سے اعلیٰ قسم ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے علاوہ کسی اور وجہ سے مر جائے۔ پہلے چار قسم کے شہداء اخروی احکام کے اعتبار سے شہید ہیں، دنیوی اعتبار سے نہیں۔ چنانچہ انہیں غسل دیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس حدیث میں (شہداء کی) جو تعداد بیان کی گئی ہے، وہ حصر کے لئے نہيں ہے۔۔

تشریح: العربية

الشهداء في الجملة خمسة، الذي ضربه الطاعون ومات به وهو وباء فتاك، والذي يموت بمرض البطن، والذي يموت من الغرق وقد ركب البحر ركوبا غير محرم، أو في السيول والمسابح ونحوها، والذي يموت تحت الهدم كأن سقط عليه جدار، والمقتول في سبيل الله تعالى ، وهو أعلى الأنواع، وكذلك من مات في سبيل الله بسبب غير القتال، والشهداء الأربعة الأول شهداء في أحكام الآخرة لا الدنيا فيغسلون ويصلى عليهم، والعدد في الحديث ليس للحصر.

  • فضل الله ورحمته بعباده المؤمنين.
  • الشهداء قسمان : شهيد الدنيا، وشهيد الآخرة.
  • تصحيح المفاهيم الخاطئة المستقرة في أذهان المدعوين.
  • العدد في الحديث ليس للحصر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید