حدیث

اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری حفاظت کی پناہ میں ہے، تو اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، تو وعدے کو پورا کرنے والا اور لائق ستائش ہے۔ اے اللہ! تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه مرفوعاً: « صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين، فسمعته يقول: «اللهم إن فلان ابن فلان في ذمتك وحبل جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ القبر، وعذاب النار، وأنت أهل الوفاء والحمد؛ اللهم فاغفر له وارحمه، إنك أنت الغفور الرحيم».

ترجمہ

واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: ”اللَّهُمَّ إنَّ فُلانَ ابْنَ فُلانٍ في ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ، وَعذَابَ النَّار، وَأَنْتَ أهْلُ الوَفَاءِ وَالحَمْدِ؛ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إنَّكَ أنْتَ الغَفُورُ الرَّحيمُ“ اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری حفاظت کی پناہ میں ہے، تو اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، تو وعدے کو پورا کرنے والا اور لائق ستائش ہے۔ اے اللہ! تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں دعا فرمائی جس کا مفہوم یہ ہے: اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے حفظ و امان میں ہے اور تیری مغفرت کا طلب گار ہے۔ لہٰذا قبر میں بطور امتحان پوچھے جانے والے سوال پر اسے ثابت قدم رکھ اور اسے آگ کے عذاب سے نجات دے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا اور تو حق والا ہے۔ اے اللہ! پس تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم فرما، یقیناً تو گناہوں کو بہت زیادہ معاف کرنے والا، اور نیکیوں کو قبول کر کے اور انہیں کئی چند کرکے بہت ہی رحمت کرنے والا ہے۔

تشریح: العربية

صلى النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الجنازة على رجل من المسلمين، ثم قال ما معناه: اللهم إن فلان بن فلان في أمانك وحفظك وطلب مغفرتك؛ فثبته عند سؤال الامتحان في القبر، ونجِّه من عذاب النار، فإنك لا تخلف الميعاد، وأنت أهل الحق، فاللهم اغفر له وارحمه، إنك كثير المغفرة للسيئات، وكثير الرحمة بقبول الطاعات ومضاعفة الحسنات.

  • حرص الرسول – صلى الله عليه وسلم – على اختيار الدعوات الجامعة لخير أصحابه، وتعليما لأمته.
  • إثبات عذاب القبر وفتنته وأنهما حق.
  • استحباب سؤال الله تعالى في إعاذة الميت من عذاب القبر وعذاب جهنم.
  • استحباب الثناء على الله بما هو أهله عند الدعاء والابتهال.
  • يُنسب الرجل في الدنيا والآخرة لأبيه، وليس لأمه كما زعم بعضهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید