حدیث

دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا (فرمایا) کم ہی رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی دعا اور لڑائی کے وقت کی دعا جب کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سهل بن سعد رضي الله عنهما مرفوعاً: «ثنتان لا تُرَدَّانِ، أو قلما تردان: الدعاء عند النداء وعند البأس حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُ بَعْضًا».

ترجمہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا (فرمایا) کم ہی رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی دعا اور لڑائی کے وقت کی دعا جب کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں“۔

تشریح

اس حديث ميں جہاد فى سبيل اللہ کى فضيلت کا بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ معرکۂ کار زار ميں مجاہد کى دعا كو شرفِ قبوليت سے نوازتا ہے، اسى طرح اس حديث ميں اذان کى فضيلت کا بھى بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ اذان سے لے کر اقامت ہونے تک مسلمان کى دعا قبول فرماتا ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث بيان فضل الجهاد في سبيل الله حيث يستجيب الله تعالى لدعاء المجاهد وهو في المعركة، وفيه أيضاً بيان فضل الأذان حيث يستجيب الله تعالى لدعاء المسلم عند الأذان وحتى إقامة الصلاة.

  • استحباب الدعاء في هذين الوقتين لما لهما من فضيلة الإجابة.
  • أنَّ الدعاء من أقوى الأسباب في دفع المكروه وحصول المطلوب.
  • أهمية أداء صلاة الجماعة في المسجد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید