حدیث

رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ».

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت پریشانی اور شدید غم واندوہ کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ «العظيم» وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم مرتبے اور بڑی شان والا ہے۔ «الحليم» وہ بردبار ہے، جو کسی نافرمان بندے کو فورا سزا نہیں دیتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو معاف بھی کر دیتا ہے۔ جب کہ اس کے پاس سزا دینے کی پوری طاقت موجود ہے۔ کیوں کہ وہ پروردگار سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں، جو عرش عظیم کا خالق ہے۔ «لا إله إلا الله رب السموات والأرض» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں، جو آسمانوں اور زمین کا رب وخالق اور ان کے اندر موجود تمام چیزوں کا خالق، مالک، مصلح اور اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ «رب العرش الكريم» جو عرش عظیم کا خالق ہے۔

فوائد

  • مصیبتیں اور پریشانیاں آنے پر اللہ سے لو لگانا اور دعا کرنا واجب ہے۔
  • پریشانی کے وقت یہ دعا کرنا مستحب ہے۔
  • رحمن کا عرش، جس پر وہ مستوی ہے، سب سے بلند، سب سے بڑی اور سب سے عظیم مخلوق ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عظیم اور کریم سے متصف کیا ہے۔
  • یہاں بطور خاص آسمانوں اور زمین کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ہمیں نظر آنے والی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہیں۔
  • طیبی کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حمد وثنا کا آغاز رب کے ذکر سے کیا، تاکہ پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ مناسبت رہے، کیوں کہ یہی تربیت کا تقاضا ہے۔ اس میں توحید پر مشتمل تہلیل ہے جو اللہ کو تمام کمیوں اور عیوب سے پاک کرنے کی اصل بنیاد ہے، عظمت کا بیان ہے جو اللہ کی قدرت تامہ پر دلالت کرتی ہے، حلم وبردباری کا ذکر ہے جو علم پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ کسی جاہل کے اندر علم اور کرم جیسے اوصاف کے پائے جانے کا تصور نہيں کیا جا سکتا، جب کہ یہ دونوں صفات اوصاف کریمہ کی بنیاد اور اصل ہیں۔
تشریح: العربية

كَانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يقول عند اشتداد الكَرْب والغَمِّ عليه: «لا إله إلا الله» لا معبودَ بحق إلا الله، «العظيم» القَدْرِ، الجليل الشأن، في ذاته وصفاته وأفعاله، «الحليم» الذي لا يُعَاجِل العاصي بالعقوبة بل يُؤخّرها، وقد يعفو عنه مع القدرة عليه، فهو القادر سبحانه على كل شيء. «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» خالق العرش العظيم، «لا إله إلا الله رب السموات والأرض» وخالق السموات والأرض، وخالق كل شيء فيهما ومالكه ومُصْلِحُه، والمُتصرِّف فيه كيف ما شاء، «رب العرش الكريم» خالق العرش الكريم.

  • وجوب الفزع إلى الله بالدُّعَاء عند نزول المصائب والكُرُوْب.
  • استحباب الدعاء بهذا الذِّكْر عند الكرب.
  • عرش الرحمن الذي استوى عليه جل جلاله هو أعلى المخلوقات وأكبرُها وأعظمُها، وقد وصفه النبي صلى الله عليه وسلم بأنه عظيم وبأنه كريم.
  • خص السموات والأرض بالذكر؛ لأنهما من أعظم المخلوقات المشاهدة.
  • قال الطيبي: صَدَّرَ هذا الثناءَ بذكر الرب لِيناسب كَشْفِ الكرب؛ لأنه مقتضى التربية، وفيه التهليل المشتمل على التوحيد وهو أصل التنزيهات الجلالية، والعظمة التي تدل على تمام القدرة، والحلم الذي يدل على العلم، إذ الجاهل لا يُتَصَوّر منه حِلْم ولا كرم وهما أصل الأوصاف الإكرامية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید