حدیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ} [النصر: 1] إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي». وعَنْها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ انہی سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ آپ ﷺ دراصل ایسا کر کے قرآن کے اندر دیے گئے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔

تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں بیان فرما رہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} نازل فرمائی، تو فورا اللہ تعالیٰ کے حکم (آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے) کی تعمیل میں لگ گئے۔ چنانچہ آپ نماز کے اندر رکوع اور سجدے میں کثرت سے "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" پڑھتے تھے۔ «سبحانك» "میں تیرى پاکى بیان کرتا ہو اور تجھ کو منزہ قرار دیتا ہوں ہر کمى سے اور کمى تیرے شایان شان نہیں ہے، «اللهم ربنا وبحمدك» "اے اللہ ہمارے رب! تیرى بہترین تعریف وثنا کے ساتھ کیوں کہ تیرى ذات، تیرى صفات اور تیرے افعال سب کمال کے اعلى درجہ پر ہیں"، «اللهم اغفر لي» "اے اللہ میرے گناہوں کو مٹادے اور ان سے درگزر فرما"۔

فوائد

  • رکوع اور سجدے میں یہ دعا کثرت سے پڑھنا مستحب ہے۔
  • آخرى عمر میں استغفار کرنے میں یہ راز پنہاں ہے کہ عبادتوں، اور بطور خاص نماز کا اختتام استغفار پر ہونا چاہیے، تاکہ ان کے اندر رہ جانے والی کمیوں کا تدارک ہو جائے۔
  • قبولیت دعا کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے بہترین وسیلہ یہ ہے کہ اس کی حمد کی جائے، اس کى پاکى کو بیان کیا جائے اور نقائص و عیوب سے اس کو منزه قرار ديا جائے۔
  • استغفار کی فضیلت اور ہر حال میں مغفرت طلب کرنا۔
  • نبی کریم ﷺ عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے درجۂ کمال پر فائز تھے۔
تشریح: العربية

تُخْبِرُ أمُّ المؤمنين عائشةُ رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أُنزِل عليه: {إذا جاء نصر الله والفتح} تَأَوَّلَ القرآنَ وبَادَرَ إلى امتثال أَمْرِ الله تعالى في قوله: {فسبح بحمد ربك واستغفره}، فكان يكثر أن يقول في حال ركوعه وسجوده أثناء الصلاة: «سبحانك» وتنزيهًا لك من كلِّ نقص عما لا يليق بك، «اللهم ربنا وبحمدك» بالثناء المحمود عليك لكمال ذاتك وصفاتك وأفعالك، «اللهم اغفر لي» وامْحُ عني ذنبي وتجاوز عنه.

  • استحباب الإكثار من هذا الدعاء في الركوع والسجود.
  • الاستغفار في آخر العُمْر فيه تَنبيهٌ أنْ تَخْتِمَ العبادات كذلك -وخصوصًا الصلاة- بالاستغفار، ليتدارك ما حصل فيها من النقص.
  • أحسن ما يُتَوَسَّل به إلى الله في قبول الدعاء هو ذِكْرُ مَحامده وتسبيحه وتنزيهه عن النقائص والعيوب.
  • فضيلة الاستغفار، وطلبه في كل حال.
  • كمال عبودية النبي صلى الله عليه وسلم وامتثاله لأمر الله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید