حدیث

رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ ﷺ نے منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ کہے نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، لوگ جمع ہو گیے اور آپ ﷺ آگے بڑھے تکبیر ہوئی اور آپ ﷺ نے دو رکعتوں کو چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھایا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها «أن الشمس خَسَفَتْ على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث مُناديا ينادي: الصلاة جامعة، فاجْتَمَعوا، وتقَدَّم، فكَبَّر وصلَّى أربعَ ركعات في ركعتين، وأربعَ سجَدَات».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ ﷺ نے منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ کہے نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، لوگ جمع ہو گیے اور آپ ﷺ آگے بڑھے تکبیر ہوئی اور آپ ﷺ نے دو رکعتوں کو چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھایا۔

تشریح

رسول ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو سڑکوں اور بازاروں میں ’الصَّلاةُ جَامِعَةٌ‘ (نماز ہونے جارہی ہے) کی لوگوں میں منادی کرے، تاکہ وہ انھیں نماز پڑھائیں، اور ان کے لیے اللہ تبارک وتعالی سے دعا کریں کہ وہ انھیں بخش دے، ان پر بارانِ رحمت کا نزول فرمائے اور ان پر اپنی ظاہری وباطنی نعمتوں کو سدا بہار کردے۔ وہ سب مسجد نبوی میں جمع ہوئے، اور اپنی جگہ کی طرف بڑھے جہاں سے نماز پڑھایا کرتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں ایک ایسی نماز پڑھائی جو ان کی ان نمازوں سے بالکل مختلف تھی جس کے وہ عادی تھے، جو خارج از معتاد کائنات کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی؛ اس نماز کے لیے اقامت نہیں کہی جائے گی، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور دو سجدوں میں دو رکوع کیا، اور (پھر دوسری رکعت کے لیے بھی) دو سجدوں میں دو رکوع کیا، یعنی ہر رکعت میں دو دو رکوع اور دو دو سجدے کیے۔

تشریح: العربية

خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث مُنادياً في الشوارع والأسواق ينادى الناس (الصلاة جامعة) ليصلوا ويدعو الله -تبارك وتعالى- أن يغفر لهم ويرحمهم وأن يديم عليهم نعمه الظاهرة والباطنة. واجتمعوا في مسجده صلى الله عليه وسلم وتقدم إلى مكانه حيث يصلي بهم، فصلى بهم صلاة لا نظير لها فيما اعتاده الناس من صلاتهم؛ لآية كونية خرجت عن العادة، فهي بلا إقامة، فكبر وصلى ركعتين في سجدتين، وركعتين في سجدتين يعني في كل ركعة ركوعان وسجودان.

  • وجود خسوف الشمس على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
  • استحباب الصلاة عند الخسوف، ونقل النووي الإجماع على أنها سنة.
  • مشروعية الاجتماع لها لأجل التضرع والدعاء، والمبادرة بالتوبة والاستغفار لأن سبب ذلك الذنوب.
  • أنه ليس لها أذان، وإنما ينادى لها بـ"الصلاة جامعة"؛ لأن الكسوف والخسوف يأتيان مفاجأة فشرع النداء لهما بخلاف العيد والاستسقاء يأتيان على موعد فلم يناد لهما.
  • أن صلاة الكسوف ركعتان في كل ركعة ركوعان وسجودان.
  • سرعة امتثال الصحابة وتركهم لأعمالهم لأجل صلاة الكسوف دلالة على فضلهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید