ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كنت أنام بين يَدَيْ رسول الله صلى الله عليه وسلم ورِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ، فإذا سجد غَمَزَنِي، فقَبَضتُ رِجْلَيَّ، فإذا قام بَسَطْتُهُمَا، والبيوت يومئذ ليس فيها مصابيح».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی اور میرے پاؤں آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دباتے اور میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھلا لیتی اور ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو جاتی اور آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ ہمارے گھروں کے تنگ ہونے کی وجہ سے میرے پاؤں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے سجدے کے جگہ کے مابین آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے تھے۔ جب تک آپ ﷺ نماز تہجد میں کھڑے رہتے میں پاؤں کو پھیلائے رکھتی اور جب آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے اور میں انہیں سمیٹ لیتی تاکہ آپ ﷺ سجدہ کر سکیں۔ اگر میں آپ ﷺ کو دیکھ سکتی کہ آپ ﷺ سجدہ کرنے والے ہیں تو بلا دبائے ہی میں پاؤں کو سمیٹ لیتی لیکن ہمارے گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے کہ جن کی روشنی میں وہ نبی ﷺ کو دیکھ کر اپنے پاؤں کو سمیٹ لیتیں بغیر اس کے کہ آپ ﷺ کو انہیں دبانے کی ضرورت پڑتی۔
تشریح: العربية
كانت عائشة رضي الله عنها تقول: كنت أنام بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلِّي في الليل، ولضيق بيوتنا، تكون رِجْلاي في قِبْلته بينه وبين موضع سجوده، فما دام واقفاً يتهجد بسطتهما، فإذا سجد، غَمَزني فَقبضتهما ليسجد. ولو كنت أراه إذا سجد لقبضتهما بلا غمز منه، ولكن ليس في بيوتنا مصابيح ترى فيها النبي صلى الله عليه وسلم ، فتكف رجليها من غير أن تحوجه إلى غمزها.
- جواز اعتراض النائم أمام المصلي إذا كان هناك حاجة تستدعي ذلك كضيق المكان.
- أن اعتراض المرأة أمام المصلي، لا يقطع الصلاة ولا ينقصها.
- أن مسَّ المرأة ولو بلا حائل لا ينقض الوضوء؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- يغمزها في الظلام، فلا يعلم، أيمسها من وراء حائل، أم لا؟
- ما كان النبي -صلى الله عليه وسلم- وأهله عليه من ضيق الحياة، رغبة فيما عند الله، وزهداً في هذه الحياة الفانية.
- جواز مثل هذه الحركة في الصلاة، وأنهَا لا تخِلُّ بها.
- حسن معاشرة النبي -صلى الله عليه وسلم- لأهله.