حدیث

”منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنَّ الرُّقَى والتَمائِمَ والتِّوَلَةَ شِرْكٌ».

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ”منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ چیزیں بتائی ہيں، جن کو کرنا شرک ہے۔ مثلا : 1- جھاڑ پھونک اور منتر: وہ شرکیہ باتیں جن کو زمانۂ جاہلیت کے لوگ شفا حاصل کرنے کے لیے پڑھا کرتے تھے۔ 2- سیپ وغیرہ سے بنے ہوئے تعویذ، جن کو بچوں اور جانوروں کے جسم میں نظر بد سے حفاظت کے لیے باندھا جاتا ہے۔ 3- ٹوٹکے، جو میاں بیوی میں سے ایک کے اندر دوسرے کی محبت ڈالنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ تینوں کام شرکیہ اعمال ہیں۔ کیوں کہ ان کاموں میں ایسی چیزوں کو سبب بنایا جاتا ہے، جو نہ تو دلیل سے ثابت شرعی سبب ہیں اور نہ تجربہ سے ثابت حسی سبب ہیں۔ رہی بات شرعی اسباب مثلا قرآن کی تلاوت اور حسی اسباب مثلا تجربہ سے ثابت شدہ دواؤں کی، تو ان کا استعمال اس عقیدے کے ساتھ کرنا جائز ہے کہ یہ محض اسباب ہیں اور نفع و نقصان کا مالک اللہ ہے۔

فوائد

  • توحید اور عقیدے کو ہر خلل انداز چیز سے محفوظ رکھنا۔
  • شرکیہ منتروں، تعویذوں اور ٹوٹکوں کا استعمال حرام ہے۔
  • ان تینوں چیزوں کو اسباب سمجھنا شرک اصغر ہے، کیوں کہ یہ ایسی چیزوں کو سبب بنانا ہے، جو سبب نہيں ہيں۔ جب کہ ان کو بذات خود نفع و نقصان کرنے والا سمجھنا شرک اکبر ہے۔
  • شرکیہ اور حرام اسباب کو بروئے کار لانے کی ممانعت۔
  • منتروں کا استعمال حرام اور شرک ہے، سوائے ان منتروں کے جن کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
  • دل کا تعلق بس اللہ سے ہونا چاہیے۔ دل کے اندر یہ مضبوط یقین ہونا چاہیے کہ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے اور اس معاملے میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ بھلائی بس اللہ ہی دیتا ہے اور برائی سے بس وہی بچاتا ہے۔
  • شفا کے لیے پڑھے جانے والے جائز کلمات کے اندر تین شرطیں پائی جانی چاہیے: 1- یہ اعتقاد ہو کہ یہ بس سبب ہیں اور فائدہ اللہ کی اجازت سے پہنچاتے ہیں۔ 2- پڑھے جانے والے کلمات قرآن سے لیے گئے ہوں، اللہ کے اسما و صفاپ پر مشتمل ہوں، نبوی دعاؤں سے لیے گئے ہوں یا مشروع دعاؤں میں سے ہوں۔ 3- ان کی زبان سمجھی جا سکے۔ طلسمات اور جادوئی کلمات نہ ہوں۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أشياءَ فِعلُها مِن الشرك؛ ومنها: أولاً: الرقى: الكلام الذي يَسْتَشْفِي به أهلُ الجاهلية المُحتوي على الشرك. ثانياً: التمائم من الخَرَز ونحوه: التي تُعَلَّق على الأطفال والبهائم وغيرهم لدفع العَين. ثالثاً: التِّوَلة: التي تُصنع لتُحبِّب أحد الزوجين إلى الآخر. فهذه الأمور من الشرك؛ لأنها مِن جَعْل الشيء سببًا، وهو ليس بسببٍ شرعيٍّ ثَبَتَ بالدليل، ولا بسببٍ حسيٍّ ثبت بالتجربة. أما الأسباب الشرعية كقراءة القرآن، أو الحسية كالأدوية التي ثبتت بالتجربة، فهي جائزة مع اعتقاد أنها أسباب، وأن النفع والضر بيد الله.

  • صيانة التوحيد والعقيدة عما يُخِلُّ بها.
  • تحريم استعمال الرقى الشركية والتمائم والتولة.
  • اعتقاد الإنسان في هذه الثلاث أنها أسباب: هو شرك أصغر؛ لأنه جعل ما ليس بسببٍ سببًا، أما إن اعتقد أنها تنفع وتضر بذاتها فهو شرك أكبر.
  • التحذير من فعل الأسباب الشركية والمحرمة.
  • تحريم الرقى وأنها من الشرك إلا ما كان منها مشروعًا.
  • ينبغي تعلُّق القلب بالله وحده، فمنه الضر والنفع وحده لا شريك له، فلا يأتي بالخير إلا الله ولا يدفع الشر إلا الله تعالى.
  • الرقى الجائزة هي المتضمنة لثلاثة شروط: 1- أن يعتقد أنها سبب ولا تنفع إلا بإذن الله. 2- أن تكون بالقرآن وأسماء الله وصفاته والأدعية النبوية والأدعية المشروعة. 3- أن تكون بلغة مفهومة ولا تحتوي على طَلَاسِمَ وشَعْوَذةٍ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید