حدیث

نبی کریم ﷺ استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کرنے لگے اور اپنی چادر کو پھیر کر الٹ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی جس میں آپ ﷺ نے جہری طور پر قراءت کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن زيد بن عَاصِم المازِنِي رضي الله عنه قال: «خرج النبي صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي، فتَوَجَّه إلى القبلة يدْعو، وحَوَّل رِدَاءه، ثم صلَّى ركعتين، جَهَرَ فيهما بالقِراءة». وفي لفظ «إلى الْمُصَلَّى».

ترجمہ

عبد الله بن زيد بن عاصم مازنی روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کرنے لگے اور اپنی چادر کو پھیر کر الٹ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی جس میں آپ ﷺ نے جہری طور پر قراءت کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ عید گاہ کی طرف گئے۔

تشریح

اللہ تعالی بہت سی آزمائشوں میں بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اس سے دعا کریں اور اس کو یاد کریں۔ نبی ﷺ کے دور میں جب ایک دفعہ زمین خشک سالی کا شکار ہوگئی تو آپ ﷺ لوگوں کو لے کر صحراء میں عید گاہ کے طرف نکلے تاکہ اللہ تعالی سے پانی کی دعا کریں اور اس طرح سے زیادہ عاجزی اور حاجت مندی کا اظہار کر سکیں۔ آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا جہاں سے دعاؤں کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ وہ مومنوں کی مدد کرے اور ان پر طاری قحط کو دور کرے۔ اور ان کی حالت کے خشک سالی سے شادابی اور تنگی سے کشادگی میں بدل جانے کے شگون کے طور پر آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک کو ایک جانب سے دوسری جانب الٹ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نمازِ استسقاء کی دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں جہری قرأت فرمائی کیونکہ یہ مجمع کی صورت میں ادا کی جانے والی نماز ہے۔

تشریح: العربية

يبتلي الله تعالى العباد بأنواع من الابتلاء؛ ليقوموا بدعائه وحده وليذكروه، فلما أجدبت الأرض في عهد النبي صلى الله عليه وسلم ، خرج بالناس إلى مصلى العيد بالصحراء؛ ليطلب السقيا من الله تعالى ، وليكون أقرب في إظهار الضراعة والافتقار إلى الله تعالى ، فتوجه إلى القبلة، مظنة قبول الدعاء، وأخذ يدعو الله أن يغيث المسلمين، ويزيل ما بهم من قحط. وتفاؤلا بتحول حالهم من الجدب إلى الخصب، ومن الضيق إلى السعة، حوَّل رداءه من جانب إلى آخر، ثم صلى بهم صلاة الاستسقاء ركعتين، جهر فيهما بالقراءة؛ لأنها صلاة جامعة.

  • مشروعية صلاة الاستسقاء.
  • مشروعية إقامتها في مصلى العيد.
  • استقبال القبلة عند الدعاء؛ لأنها مظنة الإجابة.
  • مشروعية تحويل الرداء أثناء الدعاء للاستسقاء، تفاؤلاً بتحول الحال من القحط والجدب إلى الرخاء والخصب.
  • الجهر في صلاة الاستسقاء بالقراءة، كالجمعة، والعيدين، والكسوف وأنها ركعتان.
  • أن الدعاء بالسقيا قبل الصلاة، ويجوز بعدها كما في روايات أخرى.
  • أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مفتقر إلى الله -تعالى- في جلب المنافع ودفع المضار ولا يملك لنفسه ولا لغيره نفعًا ولا ضرًّا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید