حدیث

رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عَبْد اللَّهِ بْن عَبَّاس رضي الله عنهما قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَجْمعُ في السَّفَر بين صلاة الظهر والعصر؛ إذا كان على ظَهْرِ سَيْرٍ، ويجمع بين المغرب والعشاء».

ترجمہ

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔

تشریح

ہمارے نبی محمد ﷺ پر نازل ہونےوالی شریعت دوسری آسمانی شریعتوں سے آسانی، ازالہ تکلیف و مشقت اور مکلف افراد پر تخفیف کے اعتبار سے سب سے ممتاز ہے۔ ان آسانیوں میں سے ایک حالت سفر میں ایک وقت کی نمازوں کو اکٹھے ایک ساتھ پڑھنا بھی ہے۔ اصول یہی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا واجب ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی یہ عادت تھی کہ جب آپﷺ سفر کرتے تو سفر کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے ظہر و عصر کو جمع کرلیتے اور اس میں کبھی جمع تقدیم کرلیتے اور کبھی جمع تاخیر۔ اسی طرح مغرب و عشاء کو جمع تقدیم یا جمع تاخیر کے ذریعے اکٹھا کرلیتے اور ایسا اپنے ساتھ سفر کرنے والوں پر آسانی کی غرض سے کرتے تھے۔ لہذا سفر دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں جمع کرنے کا سبب بن جاتا ہے کیوں کہ وہ وقت دونوں نمازوں کی ادائیگی کا وقت بن جاتا ہے اور سفر میں بار بار رکنا اور چلنا مشقت پیدا کرتا ہے اس لیے آسانی کی غرض سے نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔

تشریح: العربية

تمتاز شريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم من بين سائر الشرائع السماوية بالسماحة واليسر وإزاحة كل حرج ومشقة عن المكلفين أو تخفيفهما، ومن هذه التخفيفات: الجمع في السفر بين الصلاتين المشتركتين في الوقت. فالأصل وجوب فعل كل صلاة في وقتها، لكن كان من عادة النبي صلى الله عليه وسلم إذا سافر وجدَّ به السير في سفره، الجمع بين الظهر والعصر: إما تقديماً، أو تأخيراً، والجمع بين المغرب والعشاء: إما تقديماً أو تأخيراً، يراعى في ذلك الأرفق به وبمن معه من المسافرين، فيكون سفره سبباً في جمعه الصلاتين، في وقت إحداهما؛ لأن الوقت صار وقتاً للصلاتين كلتيهما؛ ولأن السفر موطن مشقة في النزول والسير، ولأن رخصة الجمع ما جعلت إلا للتسهيل فيه.

  • جواز الجمع لأجل السفر وهناك أعذار غير السفر تبيح الجمع، منها: المطر، والمرض، والاستحاضة، وهو نوع من المرض.
  • عند جمهور العلماء، أن ترك الجمع أفضل من الجمع، إلا في جَمْعَيْ عرفة ومزدلفة، لما في ذلك من المصلحة.
  • أنَّ السفر الذي يباح فيه الجمع وكذلك القصر، هو ما لا يزيد عن أربعة أيام، وتبعد 80 كيلًا.
  • أن جواز الجمع يختص بالظهر مع العصر، والمغرب مع العشاء، وأما الفجر فلا تجمع إلى غيرها.
  • ظاهره يدل على الجمع إذا كان سائرا في السفر، لولا ورود غيره من الأحاديث تدل على الجمع حال النزول.
  • جواز جمع التقديم والتأخير بين الصلاتين.
  • يسر الشريعة الإسلامية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید