حدیث

”بلاشبہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن جہنم ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن خَولة الأنصاريةِ رضي الله عنها قالت: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

ترجمہ

خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن جہنم ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے مال میں غلط تصرف کرتے ہيں اور اس پر ناحق قبضہ کر بیٹھتے ہیں۔ دراصل یہ ایک عام معنى ہے، جس میں ناجائز طریقے سے مال جمع کرنا، کمانا اور غلط جگہوں میں خرچ کرنا سب کچھ شامل ہے۔ اس کے دائرے میں یتیموں کا مال ہڑپ جانا، وقف کے اموال پر قبضہ کر لینا، امانتوں کا انکار کر دینا اور بغیر کسی حق کے عوامی فنڈز پر ہاتھ صاف کرنا بھی آتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی جزا جہنم ہے۔

فوائد

  • لوگوں کے ہاتھوں میں جو مال ہے، وہ اللہ کا مال ہے۔ اللہ نے لوگوں کو اس کا وارث بنایا ہے، تاکہ صحیح طریقے سے اس کا استعمال کریں اور اس کے غلط استعمال سے اجتناب کریں۔ اس کے اندر امراء وحکام اور دیگر سارے لوگ بھی شامل ہیں۔
  • عوامی فنڈز کے بارے میں شریعت نے بڑا سخت رویہ اپنایا ہے۔ جسے عوامی فنڈز کی دیکھ بھال کی ذمے داری ملے، اس سے قیامت کے دن فنڈ کی فراہمی اور خرچ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
  • اس وعید کے اندر مال میں غیر شرعی طور پر تصرف کرنے والا ہر شخص داخل ہے، چاہے مال خود اسی کا ہو یا کسی دوسرے کا۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن أناسٍ يَتَصَرَّفُون في أموال المسلمين بالباطل، ويأخذونها بغير حق، وهذا معنى عامٌّ في المال من حيث جَمْعِهِ وكسبِهِ من غير حِلِّه، وإنفاقه في غير مواضعه الصحيحة، ويدخل في ذلك أكل أموال اليتامى وأموال الوَقْف وجَحْد الأمانات والأخذ بغير استحقاق من الأموال العامة. ثم أخبر صلى الله عليه وسلم أن جزاءهم النار يوم القيامة.

  • المال الذي بأيدي الناس هو مال الله، استَخْلَفَهم عليه لينفقوه بالطرق المشروعة، ويجتنبوا التصرف فيه بالباطل، وهذا عامٌّ في الولاة وغيرهم من سائر الناس.
  • تشديد الشرع في المال العام، وأنه من ولي منه شيئًا فإنه سيحاسب يوم القيامة على جِبَايَتِه وإنفاقه.
  • يدخل في هذا الوعيد مَن يتصرَّفُ تصرُّفًا غير شرعي في المال سواء كان ماله أو مال غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید