حدیث

برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ کسی کی چھپی ہوئی باتوں کو دیکھنے اور سننے کی کوشش مت کرو، کسی کی کمیوں کوتاہیوں کے پیچھے نہ پڑو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ نہ رکھو اور اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کچھ ایسی چیزوں سے منع کر رہے ہیں، جو مسلمانوں کے آپسی انتشار اور دشمنی کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزیں یہ ہیں : "الظن" : دل میں آنے والا ایسا برا خیال جس کی کوئی دلیل نہ ہو۔ آپ نے بتایا ہے کہ یہ سب سے بڑی جھوٹی باتوں میں سے ہے۔ "التَّحَسُّس" : آنکھ یا کان کے ذریعے لوگوں کی چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔ "التَّجَسُّس" : چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔ اس لفظ کا استعمال اکثر برائی کی ٹوہ میں پڑنے کے لثیے ہوتا ہے۔ "الحسد" : دوسروں کو نعمت ملے، اس بات کو ناپسند کرنا۔ "التدابر" : لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور کنی کاٹ کر نکل جائيں۔ نہ سلام کلام ہو اور نہ ایک دوسرے سے میل جول رکھیں۔ "التباغض" : ایک دوسرے کو ناپسند کرنا اور ایک دوسرے سے نفرت کرنا۔ مثلا دوسروں کو اذیت دینا، کسی کو دیکھ کر منہ بنانا اور اچھے سے نہ ملنا۔ اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی جامع بات کہی، جس سے مسلمانوں کے آپسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ فرمایا : "اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔" دراصل اخوت ایک ایسا رابطہ ہے، جس سے لوگوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور پیار ومحبت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فوائد

  • کسی ایسے شخص کے بارے میں برا گمان رکھنا نقصان دہ نہیں ہے، جس کے اندر اس کے آثار دکھائی پڑتے ہوں۔ مؤمن کو اس بات سے خبردار رہنا چاہیے کہ برے اور گناہ گار لوگوں سے دھوکہ نہ کھائے۔
  • یہاں مقصد اس برے گمان سے دور رکھنا ہے، جو دل میں بیٹھ جائے اور نکلنے کا نام نہ لے۔ جہاں تک ایسے برے گمان کی بات ہے، جو دل میں آئے اور ٹھہرے بغیر نکل جائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
  • کسی کی برائی کی ٹوہ میں رہنا اور حسد وغیرہ یہ ساری چیزیں حرام ہیں، جو مسلم سماج کے افراد کے بیچ آپسی نفرت اور قطع تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
  • اس بات کی وصیت کہ ایک مسلمان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرتے ہوئے اس کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس سے محبت رکھنی چاہیے۔
تشریح: العربية

يَنْهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم ويُحَذِّرُ مِن بعضِ ما يؤدِّي إلى الفُرْقة والعداوة بين المسلمين، ومن ذلك: (الظن) وهو تُهمةٌ تقَعُ في القَلبِ بلا دَليلٍ، وبَيَّنَ أنه مِن أَكْذَب الحديث. وعن (التَّحَسُّس): وهو البحث عن عورات الناس بالعين أو الأذن. و(التَّجَسُّس): وهو البحث عن ما خفي من الأمور، وأكثر ما يقال ذلك في الشر. وعن: (الحسد) وهو كراهية حصول النعمة للآخرين. وعن: (التدابر) بأنْ يَعْرِضَ بعضُهم عن بعض، فلا يسلِّم ولا يزور أخاه المسلم، وعن: (التباغض) والكراهية والنفرة، كأذية الآخرين، والعبوس وسوء المقابلة. ثم قال كلمة جامعة تصلح بها أحوال المسلمين بعضهم مع بعض: (وكونوا عباد الله إخوانًا) فالأخوة رابطة تلتئم بها العلاقات بين الناس، وتزيد المحبة والأُلْفة بينهم.

  • لا يَضُرُّ الظنُّ السيءُ بمَن ظهرتْ منه علاماتُه، وعلى المؤمن أن يكون كَيِّسًا فَطِنًا لا يَنْخدع بأهل السوء والفسوق.
  • المراد التحذير من التهمة التي تستقر في النفس، ومن الإصرار عليها، أما ما يَعرِض في النفس ولا يستقر فهذا لا يُكلف به.
  • تحريم أسباب التنافر والقطيعة بين أفراد المجتمع المسلم، من التجسس والحسد ونحوِهما.
  • الوصية بمعاملة المسلم معاملة الأخ في النصيحة والتَّوَادّ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید