حدیث

مسلمان کو گالی دینا فسق کا کام اور اس سے لڑنا کفر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ».

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مسلمان کو گالی دینا فسق کا کام اور اس سے لڑنا کفر ہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ گالی گلوج کرے۔ اسے آپ نے فسق یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کے دائرے سے باہر نکلنا بتایا ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے لڑنا کفریہ عمل ہے۔ لیکن یہ کفر اصغر ہے۔

فوائد

  • مسلمان کے خون او اس کى عزت وناموس کا احترام کرنا واجب ہے۔
  • کسی مسلمان کو ناحق گالی دینے والے کا بھیانک انجام کہ آپ نے اسے فاسق کہا ہے۔
  • کسی مسلمان کو گالی دینا اور اس سے لڑنا ایسے اعمال ہیں جو ایمان کو کمزور اور ناقص بنا دیتے ہیں۔
  • کچھ ایسے بھی اعمال کو کفر کہا گیا ہے، لیکن وہ ملت اسلام سے خارج کر دینے والا کفر اکبر نہیں ہوا کرتے۔
  • یہاں کفر سے مراد کفر اصغر ہے، جو انسان کو اسلام کے دائرے سے باہر نہیں نکالتا۔ اس بات پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ کیوں کہ خود اللہ عز و جل نے جھگڑے اور اختلاف کے وقت بھی اخوت ایمانی باقی رہنے کی بات کہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں، تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے، تو تم (سب) اس گروه سے، جو زیادتی کرتا ہے، لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اگر لوٹ آئے، تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو۔ بےشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔"
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم المُسلمَ أنْ يَشْتُمَ ويَسُبَّ أخاه المسلمَ، وأنَّ ذلك من الفسوق وهو الخروج عن طاعة الله ورسوله صلى الله عليه وسلم، وأنَّ مُقاتَلَةَ المسلمِ أخاه المسلمَ من الأعمال الكُفْرِيّة، لكنه كُفْرٌ أصغر.

  • وجوب احترام عِرْضِ المسلم ودمِهِ.
  • عِظَم مآل سابِّ المسلم بغير حق؛ فالسابُّ بغير حق فاسق.
  • سباب المسلم وقتاله يُضْعِفُ الإيمان وينقصه.
  • بعض الأعمال تُسمى كُفْرًا؛ وإنْ لم تَصِل إلى الكفر الأكبر المخرج عن مِلَّة الإسلام.
  • المراد بالكفر هنا الكفر الأصغر الذي لا يُخْرِج مِن المِلّة باتفاق أهل السنة؛ لأن الله عز وجل أثبت أُخُوَّةَ الإيمان للمؤمنين حال اقتتالِهم ونزاعِهم، فقال تعالى: (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا) إلى قوله: ( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ).

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید