حدیث

جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے ہمسائے کا بھی خیال رکھا کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا طبختَ مَرَقَة، فأكثر ماءها، وتعاهدْ جِيْرانك».

ترجمہ

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے ہمسائے کا بھی خیال رکھا کرو“۔

تشریح

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اسلام جس انداز میں پڑوسی کا خیال رکھتا ہے اس کی وضاحت کرتی ہے۔ اسلام انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ اگر اللہ نے اسے کشادہ رزق سے نوازا ہو تو وہ اچھے انداز میں اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی دے۔ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:" جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔" یعنی پانی کچھ زیادہ کر لو تاکہ یہ زیادہ ہو جائے اور اس میں سے تمہارے پڑوسیوں میں بھی کچھ بانٹ دیا جائے۔ شوربہ عموما گوشت یا بطورِ سالن استعمال ہونے والی دیگر اشیاء سے تیار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس شوربے کے علاوہ کوئی اور شے ہو تو تب بھی ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے پینے کی اشیاء مثلا بچا ہوا دودھ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور شے تو مناسب یہی ہے کہ آپ اس کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ان کا آپ پر حق ہے۔

تشریح: العربية

حديث أبي ذر هذا يوضح صورة من صور عناية الإسلام بحق الجار، فهو يحث الإنسان إذا وسع الله عليه برزق، أن يصيب منه جاره بعض الشيء بالمعروف، حيث قال صلى الله عليه وسلم: "إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها، وتعاهد جيرانك" أي: أكثر ماءها يعني: زدها في الماء؛ لِتَكثُر وتُوزَّع على جيرانك منها، والمرقة عادة تكون من اللحم أو من غيره مِمَّا يُؤْتدَم به، وهكذا أيضاً إذا كان عندك غير المرق، أو شراب كفضل اللبن مثلاً، وما أشبهه ينبغي لك أن تعاهد جيرانك به؛ لأن لهم حقاً عليك.

  • استحباب نصح الأحبة والأصحاب بما ينفعهم في دنياهم وآخرتهم.
  • استحباب التهادي بين الجيران؛ لأن ذلك يورث المحبة ويزيد في المودة، ويتأكد هذا التهادي إذا كان للطعام رائحة، وعلمت حاجة الجار.
  • عدم احتقار شيء من ضروب الخير، وصنوف البر؛ فإنها كلها معروف.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید