ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ».
ترجمہ
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا : ”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھا کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسان کسی اچھے کام کو حقیر نہ جانے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس کی حرص ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے مسلمان بھائی کو انسیت ملتی ہے اور اس کے اندر مسرت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔
فوائد
- مومنوں کی آپسی محبت اور ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنے کی فضیلت۔
- اسلامی شریعت ایک مکمل اور جامع شریعت ہے، جس میں مسلمانوں کی خیر و فلاح اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے والی ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔
- اچھا کام کرنے کی ترغیب، چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔
- مسلمانوں کو خوش ہونے کا موقع دینا مستحب ہے، کیوں کہ اس سے آپسی محبت پیدا ہوتی ہے۔
تشریح: العربية
حَثَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على فعل المعروف، وأن لا يحتقره ولو كان قليلًا، ومن ذلك طلاقة الوجه بالابتسامة عند اللقاء، فينبغي للمسلم أن يحرص عليه؛ لما فيه من إِيْنَاس الأخ المسلم وإدخال السرور عليه.
- فضل التَّحابِّ بين المؤمنين، والابتسامة والبِشْر عند اللقاء.
- كمال هذه الشريعة وشمولها، وأنها جاءت بكل ما فيه صلاح المسلمين وتوحيد كلمتهم.
- الحث على فعل المعروف وإن قَلَّ.
- استحباب إدخال السرور على المسلمين؛ لما في ذلك من تحقيق الأُلْفَة بينهم.