حدیث

”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أبو داود وأحمد

عربی متن

عن ابنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم: «مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے کسی کافر، فاسق یا صالح قوم کی مشابہت اپنائی، مثلا عقائد، عبادتوں یا عادتوں سے جڑا ہوا کوئی ایسا کام کیا، جو ان کی خصوصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، تو اس کا شمار انہی لوگوں میں ہوگا۔ کیوں کہ ظاہری امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے باطنی مشابہت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہيں ہے کہ کسی قوم سے مشابہت اس سے مرعوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کبھی کبھی اس سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی جانب میلان کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ اس سے باطنی اور عبادت تک میں مشابہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔

فوائد

  • اس حدیث میں کافروں اور فاسقوں سے مشابہت اختیار کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
  • اس حدیث میں نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  • ظاہری مشابہت باطنی مشابہت کا سبب بنتی ہے۔
  • انسان مشابہت اور اس کی نوعیت کے مطابق وعید اور گناہ کا حق دار بنتا ہے۔
  • دین اور خاص عادتوں کے معاملے میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔ لیکن دیگر باتوں میں جیسے علم و ہنر وغیرہ سیکھنے میں مشابہت اختیار کرنا اس وعید کے دائرے میں نہیں آئے گا۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن تَشَبَّهَ بقومٍ من الكفارِ أو الفُسَّاق أو الصالحين -وذلك بأنْ يَفعَلَ شيئًا من خصائصِهم من العقائد أو العبادات أو العادات- فهو منهم؛ لأنَّ التَّشَبُّهَ بهم في الظاهر يؤدِّي إلى التشبه بهم في الباطن، ولا شك أنَّ التشبهَ بالقوم ناتجٌ عن إعجاب، وقد يؤدِّي إلى محبتهم وتعظيمهم والركون إليهم، وهذا قد يَجرُّ المرءَ إلى أنْ يتشبه بهم حتى في الباطن والعبادة -والعياذ بالله-.

  • التحذير من التشبُّه بالكفار والفساق.
  • الحث على التشبه بالصالحين والاقتداء بهم.
  • التشبه في الظاهر يورث المحبة في الباطن.
  • يَنالُ الإنسان من الوعيد والإثم بحسب التشبه ونوعه.
  • النهي عن التشبه بالكفار في دينهم وفي عاداتهم المختصة بهم، أما ما لم يكن كذلك كتعلُّم الصناعات ونحوها فلا يدخل في النهي.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید