ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عن جُبَير بن مُطْعِم رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ».
ترجمہ
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اپنے رشتے داروں سے ان کے واجب حقوق روک دیے، ان کو تکلیف دی یا ان کے ساتھ برا سلوک کیا، وہ اس بات کا حق دار ہے کہ جنت میں کبھی داخل نہ ہو۔
فوائد
- رشتے ناتے کو کاٹنا کبیرہ گناہ ہے۔
- صلہ رحمی عام عرف کے مطابق کی جائے گی۔ اس کی نوعیت جگہ، وقت اور اشخاص کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
- صلہ رحمی زیارت، صدقہ، اچھے برتاؤ، بیمار کی مزاج پرسی، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے وغیرہ سے ہوتی ہے۔
- قطع رحمی جس قدر قریبی رشتے دار کی ہوگی، گناہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
تشریح: العربية
يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن قَطَع عن أقاربه ما يَجِب لهم من الحقوق، أو آذاهم وأساء إليهم، فهو مُستحق ألَّا يدخلَ الجنة.
- قطيعة الرحم كبيرة من كبائر الذنوب.
- صلة الرحم تكون حسب المتعارف عليه، فتختلف باختلاف الأمكنة والأزمنة والأشخاص.
- صلة الرحم تكون بالزيارة، والصدقة، والإحسان إليهم، وعيادة المرضى، وأمرهم بالمعروف، ونهيهم عن المنكر، وغير ذلك.
- كلما كانت قطيعة الرحم في الأقرب كانت أشدَّ إثمًا.