حدیث

”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم رشتے داروں کی صلہ رحمی کی ترغیب دے رہے ہیں۔ مثلا یہ کہ ان کی زیارت کی جائے اور ان کی جسمانی اور مالی مدد کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ صلہ رحمی روزی میں کشادگی اور درازئ عمر کا سبب ہے۔

فوائد

  • عربی لفظ "الرَّحِم " سے مراد والد اور والدہ دونوں کی طرف کے رشتے دار ہیں۔ رشتہ جتنا قریب کا ہوگا، صلہ رحمی کا اتنا ہی حق دار ہوگا۔
  • انسان کو جزا اسی نوعیت کی دی جاتی ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔ چنانچہ جو شخص حسن سلوک اور احسان کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے، اللہ اس کی عمر اور روزی میں برکت عطا کرتا ہے۔
  • صلہ رحمی روزی میں کشادگی اور درازئ عمر کا سبب ہے۔ حالاں کہ ویسے تو روزی اور عمر دونوں چیزیں متعین ہوتی ہیں، لیکن کبھی کبھی عمر اور روزی میں برکت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں سے زیادہ مقدار میں اور زیادہ نفع بخش کام کر جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ روزی اور عمر میں زیادتی سے مراد حقیقی زیادتی ہے۔ واللہ اعلم
تشریح: العربية

يَحُثُّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على صِلة الأقاربِ بالزيارة والإكرام البدني والمالي وغير ذلك، وأنها سببٌ في سَعة الرزق وطول العمر.

  • الرَّحِم هم الأقارب من جهة الأب والأم، وكلما كان أقرب كان أولى بالصلة.
  • الجزاء من جنس العمل، فمَن وَصَل رَحِمَه بالبر والإحسان، وَصَله الله في عُمْره ورزقه.
  • صلة الرحم سببٌ لِبَسْطِ الرِّزق وتوسيعه، وسببٌ لطول العمر، وإن كان الأجلُ والرزقُ محددًا إلا أنه قد يكون بركة في الرزق والعمر، فيفعل في عمره أكثر وأنفع مما يفعله غيرُه، وقيل زيادة الرزق والعمر زيادة حقيقية. والله أعلم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید