حدیث

يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي لم يقم منه: «لعن الله اليهود والنصارى؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أنبيائهم مساجد». قالت: ولولا ذلك لأُبْرِزَ قبره؛ غير أنه خُشِيَ أن يتخذ مسجدًا.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا: ”يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی، تو آپ ﷺ کی قبر مبارک ظاہر کر کے بنائی جاتی؛ لیکن آپ ﷺ کو خدشہ تھا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔

تشریح

اللہ تعالی نے رسولوں کو توحید کے پرچار کے لیے بھیجا۔ رسولوں میں سے سب سے افضل رسول نبی کریم ﷺ ہیں، جو توحید کے پرچار اورشرک کے تمام وسائل کا سد باب کرنے کے بہت حریص تھے۔ آپ ﷺ کے مرض وفات میں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی آپ ﷺ کی دیکھ بھال کرتیں اور جب آپ ﷺ کی روح مبارک قبض ہوئی، تو اس وقت بھی وہ وہاں موجود تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ اس مرض میں، جس سے آپ ﷺ جاں بر نہ ہو سکے، آپ ﷺ نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر مبارک کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور پھر حالت یہ ہو کہ اللہ کی عبادت کی بجائے آپ ﷺ ہی کی عبادت شروع ہوجائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاری پر، جنھوں ںے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“، آپ ﷺ ان کے لیے یا تو بد دعا فرما رہے ہیں یا یہ بتا رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے اور آپ ﷺ کا یہ فرمان منسوخ نہیں ہوا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ یہود و نصاری کے عمل سے ڈرا رہے ہیں۔ چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی مراد سمجھ گئے اور انھوں نے قبرمبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی۔ نیز نہ تو صحابۂ کرام سے اور نہ ان کے بعد آنے والے سلف صالحین سے منقول ہے کہ کبھی وہ آپ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف، وہاں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کے ارادے سے گئے ہوں۔ جب سنت کی جگہ بدعت نے لے لی اور قبروں کی طرف سفر کرنے کا رواج ہو گیا، تب بھی اللہ تعالی نے اپنی نبی ﷺ کی قبر مبارک کو ان باتوں سے محفوظ رکھا، جو آپ ﷺ کو ناپسند تھیں۔ اللہ تعالی نے قبر مبارک کی تین مضبوط رکاوٹوں کے ذریعے سے حفاظت کی، جن سے گزرنے کا کسی بدعتی کو موقع نہیں ملتا۔

تشریح: العربية

بعث الله الرسل لتحقيق التوحيد، وكان أفضلهم وهو النبي صلى الله عليه وسلم حريصًا على ذلك، وعلى سد كل وسائل الشرك، وكانت عائشة رضي الله عنها هي التي اعتنت بالنبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي توفي فيه، وهى الحاضرة وقت قبض روحه الكريم. فذكرت أنه في هذا المرض الذي لم يقم منه، خشي أن يتخذ قبره مسجداً، يصلى عنده، فتجر الحال إلى عبادته من دون الله تعالى ، فقال: "لعن الله اليهود والنصارى؛ اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد"، يدعو عليهم، أو يخبر أن الله لعنهم، وهذا يبين أن هذا في آخر حياته، وأنه لم ينسخ، يحذر من عملهم، ولذا علم الصحابة رضي الله عنهم مراده؛ فجعلوه في داخل حجرة عائشة، ولم ينقل عنهم، ولا عن من بعدهم من السلف، أنهم قصدوا قبره الشريف ليدخلوا إليه؛ فيصلوا ويدعوا عنده. حتى إذا تبدلت السنة بالبدعة، وصارت الرحلة إلى القبور، حفظ الله نبيه مما يكره أن يفعل عند قبره؛ فصانه بثلاثة حجب متينة، لا يتسنى لأي مبتدع أن ينفذ خلالها.

  • أن هذا من وصاياه الأخيرة التي أعدها لآخر أيامه لتحفظ.
  • أن هذا من فعل اليهود والنصارى، فمن فعله فقد اقتفى أثرهم، وترك سنة محمد -عليه الصلاة والسلام-.
  • النهي الأكيد، والتحريم الشديد من اتخاذ القبور مساجد، وقصد الصلاة عندها غير صلاة الجنازة؛ فذلك ذريعة إلى تعظيم الميت والطواف بقبره والتمسح بأركانه والنداء باسمه، وهذه بدعة عظيمة عمت الدنيا، وعبد الناس القبور وعظموها بالمشاهد ونحوها.
  • أن الصلاة عند القبر، سواء كانت بمسجد أو بغير مسجد، من وسائل الشرك الأكبر.
  • حرص النبي -صلى الله عليه وسلم- على حماية التوحيد واهتمامه بذلك.
  • أن الله -تعالى- صان نبيه -عليه الصلاة والسلام- عن أن يُعْمَلَ الشرك عند قبره، فألهم أصحابه ومن بعدهم، أن يصونوا قبره من أن يبرز.
  • يظن بعض الناس أن قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- وصاحبيه داخل المسجد، والصحيح أن المسجد محيط به، لكنه ليس في المسجد، بل في حجرة عائشة إلى الآن، وحجرة عائشة ليست من المسجد، ولم يدفن النبي -صلى الله عليه وسلم- في مسجد، ولا بُني على قبره مسجد، وهذه الإحاطة بالحجرة حصلت في عهد الوليد بن عبد الملك، ولم يكن أحد يستقبل الحجرة، فلما صارت التوسعة في عهد الأتراك جعل ما وراء الحجر داخلًا في المسجد، ولكنه بعيد عن القبور جدًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید